جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ گریس جیمیسن کو کانٹیکٹ لینسز پہن کر نہانا مہنگا پڑگیا حتیٰ کہ ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔
سوشل میڈیا پر اپنی کہانی بتاتے ہوئے گریس جیمیسن نے کہا کہ ’چھٹیوں کے دوران وہ ایک ٹرپ پر تھیں جب انہوں نے کانٹیکٹ لینس کے ساتھ ہی شاور لے لیا‘۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جسے کانٹیکٹ لینس پہننے والے خواتین وحضرات بغیر سوچے سمجھے انجام دیتے ہیں لیکن درحققیقت آنکھوں کی بینائی کیلئے یہ عمل بے حد خطرناک ہے اور گریس جیمیسن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
لینسز کے ساتھ نہانے سے گریس ایک سنگین آنکھوں کے انفیکشن (Acanthamoeba ) کا شکار ہوگئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ انفیکشن ایک خوردبین، آزاد زندہ امیبا کی وجہ سے اس وقت ہوتا ہے جب کانٹیکٹ لینز آلودہ پانی کے ساتھ رابطے میں آئیں۔
گریس کو کچھ دنوں بعد ہی انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے لگیں جس کے بعد گریس نے ایک ماہر امراض چشم سے رابطہ کیا اور بدقسمتی سے اس ڈاکٹر نے ان کے مرض کی غلط تشخیص کرتے ہوئے انہیں اسٹیرائیڈ قطرے تجویز کردیے جس نے انفیکشن کو مزید خراب کردیا۔
صرف ایک ہفتے کے اندر گریس انفیکشن کی وجہ سے اپنی بینائی مکمل طور پر کھو بیٹھیں اور درست تشخیص، بہتر علاج شروع کرنے تک وہ تقریباً 2 ماہ تک نابینا رہیں۔
گریس نے اپنے مداحوں کو بتایا کہ علاج کے باوجود تاحال وہ دائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہیں تاہم ان کا علاج جاری ہے اور مستقبل میں مکمل بینائی کیلئے اس کی سرجری بھی ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کبھی بھی کوئی بھی شخص کانٹیکٹ لینز کو پانی میں استعمال نہ کرے۔

