ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے جیو نیوز کو خصوصی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان جنیوا میں ملاقات کا امکان ہے جس میں معاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی لیگل ٹیم نے تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے معاملات کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے اس ہفتے کے آخرتک معاہدے پر دستخط کا امکان ہے جس کا مقام یورپ ہوگا تاہم انہوں نے کسی یورپی ملک کا نام لینے سے گریز کیا تھا۔
اس سوال پر کہ امریکا ایران معاہدے کی تفصیلات کیا ہیں، لیگل ٹیم نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم اتنا ضرور کہا کہ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان موجود ہے کہ اسرائیل معاملے کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کرےگا۔
ٹیم کی جانب سے مزید کہا گیا کہ اس معاملے پر بداعتمادی حد درجے تک موجود ہے، اس لیے ابھی یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر کار نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
بعض مغربی میڈیا کا کہنا ہےکہ امریکا ایران معاہدے کو اسلام آباد ایگریمنٹ کا نام دیا جارہا ہے ۔
عرب میڈیا کے مطابق معاہدہ پر دستخط کے وقت پاکستانی ٹیم بھی موجود ہوگی، اس پاکستانی ٹیم کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ قانونی امور کی ماہر ہے۔
اس نمائندے نے پاکستانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار سے اس بات کی تصدیق یا تردید کا پوچھا تو خبر فائل کرنے تک جواب موصول نہیں ہوسکا۔

