وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ گورنر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا ڈرامہ انتہائی افسوسناک ہے۔
صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین پر حملہ ہے۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی، وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے، کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے، گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ہے۔ حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کے پاس جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں، وفاقی حکومت کا ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ قبائلی اضلاع کو آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا۔

