ملک میں تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس دینے میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دیا۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دارطبقے نے ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے 90 ارب روپے زیادہ ٹیکس دیا جو 144 ارب روپے ہے، رئیل اسٹیٹ سے انکم ٹیکس وصولی 38 فیصدکمی سے 35.2 ارب روپے رہ گئی، اس سیکٹر سے ٹیکس وصولی گزشتہ سال کے مقابلے 22 ارب روپے کم رہی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹرکے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی، جائیداد کی فروخت پرٹیکس شرح 5.5 فیصد سےکم کرکے 2.75 فیصد کردی، جائیداد کی خریداری پرٹیکس شرح 2.5 سےکم کرکے 1.25فیصد کی، جائیدادفروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصولی 42 فیصد کمی سے 23 ارب روپے ہوگئی۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ جائیدادکی خریداری پر انکم ٹیکس وصولی 31 فیصد کمی سے 12.2ارب روپے رہی۔
ذرائع کے مطابق ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے 3 ماہ میں مجموعی طورپر18.4 ارب روپے ٹیکس دیا، ہول سیلرز کی ٹیکس ادائیگی 10 فیصد کمی سے 6.2 ارب روپے رہی، ریٹیلرز نے 11.3 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا جو گزشتہ سال سے8.3 فیصد زیادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے قبل سالانہ ٹیکس حصہ 391 ارب روپے تھا، 2 سالہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد حصہ 629 ارب روپے ہوگیا، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 52 ارب روپے ریلیف کا دعویٰ کیا گیا اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح میں 3 فیصد تک کمی کی گئی۔

