اتوار, مئی 3, 2026
ہوماہم خبریںہاؤسنگ کیلئے قرضہ جات کی سود سے پاک نظام کیساتھ ہم آہنگی،...

ہاؤسنگ کیلئے قرضہ جات کی سود سے پاک نظام کیساتھ ہم آہنگی، وزیراعظم نے رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے دی نیوز کی اس رپورٹ کا نوٹس لیا ہے جس میں حکومت کی 3.2 کھرب روپے کی ہاؤسنگ فنانس اسکیم اور سود کے خاتمے کی آئینی ڈیڈ لائن کے ساتھ اس کی مطابقت پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ 

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے کا فوری جائزہ لے کر حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔ 

ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعظم نے دی نیوز کی ہفتہ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد تفصیلی بریفنگ طلب کی، جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کی ساخت اور مدت سود پر مبنی قرضوں کو یکم جنوری 2028 کے بعد تک جاری رکھ سکتی ہے، جو 26ویں آئینی ترمیم کے تحت سود سے پاک مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کیلئے مقررہ آخری تاریخ ہے۔ 

حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا اسکیم کا ڈیزائن، جس میں پانچ سالہ قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ اور 20 سالہ ادائیگی کی مدت شامل ہے، آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے یا اس کے ازسرِ نو تشکیل کی ضرورت ہے۔ 

اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن پر پہلے 10 سال کیلئے 5 فیصد مقررہ مارک اپ رکھا گیا ہے، جس کے بعد مارکیٹ کی بنیاد پر شرح لاگو ہوں گی۔ حکومت نے پہلے سال میں پچاس ہزار گھروں کی فنانسنگ کیلئے 321 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مجموعی فنانسنگ پانچ سال میں 3.2 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ 

ذرائع کے مطابق، جائزے میں اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ 2028ء تک کے عبوری عرصے میں سود پر مبنی قرضوں کے تسلسل کے قانونی اور مالیاتی اثرات کیا ہوں گے، اور آیا اس اسکیم کو شریعت کے مطابق ماڈل میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔

یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت اس معاملے کی حساسیت بالخصوص سود کے خاتمے سے متعلق آئینی ذمہ داریوں کے تناظر میں سمجھتی ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہاؤسنگ منصوبے کو کم آمدنی والے طبقات کو سستی رہائش فراہم کرنے اور مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔ 

حکام کے مطابق، مالیاتی ریگولیٹرز، بینکاری کے ماہرین اور قانونی حکام سے رائے طلب کی جا رہی ہے، اور ایک رپورٹ فوری بنیادوں پر وزیرِ اعظم کو پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور معاشی ٹیم کے دیگر سینئر ارکان بھی مشاورتی عمل کا حصہ ہوں گے۔ 

اس جائزے کا نتیجہ حکومتی معاونت سے چلنے والی دیگر فنانسنگ اسکیموں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، بالخصوص وہ جو روایتی بینکاری ڈھانچے پر انحصار کرتی ہیں، کیونکہ پاکستان سودی نظام کے خاتمے سے متعلق اپنی آئینی وابستگی پر عمل درآمد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے