پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک کی مسلسل مالی بے ضابطگیاں اسے بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبورکردیتی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو ملتا ہے، بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو تقریباً مکمل طور پر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔
صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ماہرین ایک ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی ذرائع ہیں، ٹیکس اور قرضہ، تاہم پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکام رہا ہے، جبکہ قرض لینے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا ہے۔
بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے زیادہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک امر ہے، گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس پالیسی ایسی ہونا چاہیے جو کام اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں دبا دے، تجاویز میں سادہ اورکم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیرضروری چھوٹ اور استثنیٰ کے خاتمے، آزادتجارت کے فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور نجکاری شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ریاستی ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور انہیں شفاف طریقے سے نجی شعبے کے حوالے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار اور تیزرفتار معاشی ترقی ہی واحد حل ہے، جس کیلیے مقامی سطح پر تیارکردہ اصلاحات ناگزیر ہیں، ان کے مطابق بیرونی سہاروں پر انحصار کے بجائے اصلاحات کے ذریعے ہی ملک کو معاشی بحالی کی راہ پرگامزن کیا جا سکتا ہے۔

