منگل, نومبر 3, 2026
ہومکالمتشدد سے آگہی تک بلوچستان میں خواتین کا تحفظ اور میڈیا کا...

تشدد سے آگہی تک بلوچستان میں خواتین کا تحفظ اور میڈیا کا کردار

تحریر صدیق بلوچ

بلوچستان میں خواتین کے حقوق صنفی امتیاز اور خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلہ محض سماجی ناانصافی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق قبائلیت طاقت کے نظام قانون کی عمل داری اور انسانی وقار سے بھی جڑا ہوا ہے
صوبے کے بعض علاقوں میں عورت کی عزت خاندان کی غیرت اور روایات کے نام پر ایسے فیصلوں کو جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس کی آزادی خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق کو محدود کر دیتے ہیں
عورت کو عزت دینے کے دعوے اور اسے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا اختیار دینے کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے
اگر اس کی تعلیم شادی روزگار نقل و حرکت اور زندگی کے دیگر بنیادی معاملات میں اس کی اپنی رائے کو اہمیت نہ دی جائے تو محض عزت و احترام کے دعوے صنفی مساوات کی ضمانت نہیں بن سکتے
عزت کا حقیقی مفہوم اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب عورت کو خاندان یا قبیلے کی غیرت کی علامت کے بجائے ایک خودمختار انسان تسلیم کیا جائے
یہ مسئلہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب خواتین کے خلاف صنفی امتیاز تشدد جبری شادی سماجی پابندیوں اور دیگر ناانصافیوں کے واقعات سامنے آتے ہیں
ایسے حالات میں اس کی آواز معاشرے تک کون پہنچائیگا
یہی سے بلوچستان کے میڈیا اور صحافت کی ذمہ داری کا سوال شروع ہوتا ہے
میڈیا کسی بھی معاشرے میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے حکمرانوں اور بااثر طبقات کا احتساب کرنے اور ان آوازوں کو سامنے لانے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے جنہیں روایتی سماجی ڈھانچوں میں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے
بلوچستان میں یہ ذمہ داری اس لیے بھی اہم ہے کہ بعض خواتین کو خاندان کے دباؤ سماجی بدنامی کے خوف کے باعث اپنے مسائل سامنے لانے میں مشکلات پیش آتی ہیں ایسے میں صحافت ان کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتی ہے جہاں ان کے مسائل کو انفرادی واقعات کے بجائے انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے تناظر میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے خواتین کے خلاف صرف تشدد کی رپورٹنگ اور اطلاع بنانے کے بجائے تحقیقاتی صحافت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے پس منظر میں اسباب سماجی رویوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی سامنے لایا جائے
کیونکہ صحافت کا مقصد کسی قبیلے یا خاندان کے خلاف محاذ کھولنا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا متاثرہ فرد کے مؤقف کو مناسب جگہ دینا متعلقہ حکام سے سوال کرنا اور قانون کے مطابق انصاف کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے
لیکن اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے صحافیوں کو جن حالات میں کام کرنا پڑتا ہے وہ ان کے پیشہ ورانہ کردار پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں
جسکا واضح ثبوت بلوچستان کی صحافت ہے جو کئی سیاسی معاشی جغرافیائی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے
کیونکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے دشوار گزار جغرافیہ دور دراز آبادیاں محدود مواصلاتی سہولتیں صحافتی وسائل کی کمی اور مختلف علاقوں میں غیر یقینی سکیورٹی صورتحال صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کو مشکل بناتی ہے
جبکہ قومی میڈیا اداروں کے محدود نیٹ ورک اور اس ڈیجیٹل صحافت کے دور میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی بندش کے باعث بھی کئی مقامی مسائل قومی سطح پر مناسب کوریج حاصل نہیں کر پاتے
ایسی بندشوں سے خبر کی ترسیل معلومات کی تصدیق صحافیوں کے باہمی رابطوں اور عوام تک بروقت معلومات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان سے متعلق اپنی 2025 کی رپورٹ میں آن لائن اظہارِ رائے پر پابندیوں صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں اور انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش ظاہر کی ہے
ڈان نیوز کی کوریج میں بھی بلوچستان کےصحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران درپیش خطرات دھمکیوں اور تشدد کے واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے
جبکہ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں بھی بلوچستان کے بعض علاقوں میں طویل عرصے تک ڈیجیٹل رابطوں کے متاثر رہنے اور اس کے صحافتی سرگرمیوں پر اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے
فریڈم نیٹ ورک کی دسمبر 2025 میں جاری کردہ رپورٹ، Journalism in Balochistan: State of Media Freedoms, Access to Information and Safety of Journalists and Media Professionals in Balochistan — The Way Forward بلوچستان میں صحافت کو درپیش انہی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے
رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو مسلح گروہوں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سیاسی و قبائلی بااثر حلقوں اور بعض اوقات ہجوم کی جانب سے دباؤ دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے رپورٹ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے میں 40 صحافیوں کے قتل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے جن میں تقریباً 30 ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے
ان حالات میں حساس سیاسی سکیورٹی اور انسانی و خواتین کے حقوق کے معاملات پر رپورٹنگ کرنا صحافیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے بعض اوقات خبر شائع کرنے سے پہلے ممکنہ نتائج اور اپنی سلامتی کے خدشات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے صحافتی اصطلاح میں اس کیفیت کو خود سنسرشپ کہا جاتا ہے
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق بعض قومی ٹی وی چینلز اور بڑے اخبارات نے کوئٹہ میں اپنے بیوروز بند یا عملہ کو کم کیا ہے
جبکہ صوبائی دارالحکومت سے باہر کئی علاقوں میں میڈیا کوریج محدود ہے
رپورٹ میں صوبائی حکومت کے ریکارڈ میں 120 سے زیادہ مطبوعات درج ہونے کے باوجود حقیقی قارئین تک باقاعدگی سے پہنچنے والے روزناموں کی تعداد تقریباً ایک درجن کے قریب بتائی گئی ہے
یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ اخبارات کی سرکاری رجسٹریشن اور حقیقی صحافتی سرگرمی دو مختلف معاملات ہیں کسی ادارے کا کاغذوں میں موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ باقاعدگی سے رپورٹنگ کرتا ہے صحافیوں کو روزگار فراہم کرتا ہے یا عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے
میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کے نقطۂ نظر سے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کا معاملہ بھی اہم ہے کیونکہ سرکاری اشتہارات میڈیا اداروں کے لیے آمدن کا ذریعہ ضرور ہیں لیکن ان کی تقسیم میں شفافیت اور منصفانہ معیار نہ ہوں تو مالی معاونت ادارتی آزادی کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے
بلوچستان میڈیا اسیسمنٹ سے متعلق رپورٹنگ میں بھی مطبوعات کی حقیقی اشاعت اور سرکاری اشتہارات پر انحصار کے مسائل کو نمایاں کیا گیا ہے
اس تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اداروں کے پاس اتنے مالی وسائل اور ادارتی خودمختاری موجود ہے کہ وہ عوامی مفاد کے معاملات پر بلاخوف رپورٹنگ جاری رکھ سکیں؟
جب اخبارات بند بیوروز ختم صحافیوں کو
بروقت تنخواہوں کی ادائیگئی نہیں ہوتی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مقامی صحافت کو ہوتا ہےجس کے باعث دور دراز اضلاع میں تعلیم صحت خواتین کے حقوق گھریلو تشدد، جبری شادیاں پانی اور روزگار جیسے مسائل کی رپورٹنگ متاثر ہو سکتی ہے
صحافتی تنظیموں کے نقطۂ نظر سے یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب صحافی کو کسی حساس معاملے پر رپورٹنگ کے باعث اپنی سلامتی کے خدشات لاحق ہوں تو اس کے تحفظ اور پیشہ ورانہ آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
یہ سوال خواتین کے حقوق کی رپورٹنگ سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے اگر کسی صحافی کو کسی بااثر شخصیت قبائلی تنازع یا مبینہ غیرقانونی فیصلے پر سوال اٹھانے میں خطرات لاحق ہوں تو خواتین کے خلاف تشدد اور ناانصافی کے معاملات کو سامنے لانا بھی مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے
کیونکہ خواتین کی مؤثر ترجمانی کے لیے میڈیا کا آزاد اور مضبوط ہونا ضروری ہے
ان تمام تر مسائل کے تناظر میں بلوچستان میں خواتین صحافیوں کی محدود تعداد بھی خواتین کے مسائل کی مؤثر رپورٹنگ کے راستے ایک اہم رکاوٹ اور کڑی سمجھی جاتی ہے
فریڈم نیٹ ورک کی میڈیا اسیسمنٹ رپورٹ خواتین صحافیوں کی محدود موجودگی زیادہ تر کوئٹہ تک ان کے پیشہ ورانہ مواقع کے ارتکاز کام کی جگہ پر امتیازی رویوں ہراسانی تنخواہوں کے فرق اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے
جب خواتین کو پہلے ہی سماجی دباؤ نقل و حرکت کی پابندیوں اور معاشی مشکلات کا سامنا ہو تو صحافت کے شعبے میں ان کے لیے پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے
اس مقصد کے لیے خواتین صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول مساوی تنخواہ پیشہ ورانہ تربیت فیلڈ رپورٹنگ کے مواقع اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کی فراہمی ضروری ہے
صنفی امور کے ماہرین کے مطابق خواتین کے مسائل کی رپورٹنگ کو صرف خواتین صحافیوں کی ذمہ داری نہیں سمجھنا چاہیے نیوز روم سے لے کر فیلڈ رپورٹنگ تک تمام صحافیوں کو صنفی حساسیت متاثرہ افراد کے تحفظ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں سے آگاہ ہونا چاہیے
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کی خواتین کو محض تشدد اور امتیاز کا شکار افراد کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان خواتین کی کامیابیوں جدوجہد اور مثبت کردار کو بھی جگہ دی جائے جو تعلیم قانون صحافت سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں تبدیلی کے لیے کام کر رہی ہیں
صحافتی تنظیموں کے مطابق بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے میڈیا کا کردار مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحافتی تنظیمیں اور پریس کلب ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مسائل پر متحد ہوں تاکہ صحافیوں کو خطرات کی صورت میں ادارہ جاتی تحفظ قانونی معاونت اور پیشہ ورانہ مدد مل سکے جبکہ خواتین صحافیوں کو مساوی مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ تمام صحافیوں کو ڈیجیٹل رپورٹنگ ڈیٹا جرنلزم سائبر سکیورٹی اور حساس موضوعات پر رپورٹنگ کی تربیت فراہم کرنے انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی دستیابی اور معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے
جبکہ ریاست اور متعلقہ اداروں کی چاہیے کہ صحافیوں کے تحفظ آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے لیے مؤثر اقدامات کریں
میڈیا مالکان کو اپنے کارکنوں کی سلامتی معاشی حقوق اور ادارتی آزادی کو اہمیت دینی ہوگی
سول سوسائٹی وکلا تنظیموں صنفی امور کے ماہرین اور قبائلی عمائدین کو بھی خواتین کے حقوق اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہوگا
آئینی ماہرین کے مطابق صحافت کی آزادی کا تعلق صرف ادارتی پالیسی یا صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت سے نہیں بلکہ قانونی تحفظ اور آئینی حقوق سے بھی ہے
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کا تحفظ فراہم کرتا ہے اگرچہ اس حق پر آئین میں درج معقول قانونی پابندیاں بھی لاگو ہوتی ہیں
پاکستان میں پیکا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act) میں 2025 کی ترامیم نے ڈیجیٹل صحافت آن لائن اظہارِ رائے اور تنقید کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے ہیں فریڈم نیٹ ورک کی 2026 کی رپورٹ میں ان ترامیم اور ان کے نفاذ کے نتیجے میں صحافیوں اور دیگر اظہارِ رائے کرنے والوں کو درپیش قانونی دباؤ اور خود سنسرشپ کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے
وکلا تنظیموں اور انسانی حقوق کے قانونی ماہرین کے نقطۂ نظر سے صحافیوں کا تحفظ محض کسی پیشے سے وابستہ افراد کی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق آئینی حقوق قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حق معلومات سے ہے
اگر کوئی صحافی خواتین کے خلاف تشدد جبری شادی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال یا کسی بااثر شخصیت کے غیرقانونی اقدام کو رپورٹ کرتا ہے تو اس کی رپورٹنگ کا جائزہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوششوں کے بجائے اسے جمہوری اور قانونی طریقوں سے قبول اور جانچا جانا چاہیے
سول سوسائٹی کے نقطۂ نظر سے صحافت محروم طبقات کے مسائل سامنے لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے لیکن بعض مقامات پر بلوچستان کی صحافت میں آزادیٔ اظہار کے ساتھ صحافیوں کے باہمی تعلقات اور تنظیمی اتحاد کا معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے صحافتی اختلافِ رائے جمہوری اور پیشہ ورانہ زندگی کا فطری حصہ ہے لیکن جب اختلافات ذاتی کشمکش گروہ بندی اور باہمی مخالفت میں تبدیل ہو جائیں تو مشترکہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں
اسی طرح اختلاف رائے کو ذاتی مخالفت میں تبدیل کرنے کے بجائے صحافتی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق اور عوامی مفاد پر اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے
کیونکہ صحافیوں کا اتحاد ہی صنفی امتیاز خواتین کے خلاف تشدد ہراسانی سماجی ناانصافی اور محروم طبقات کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنے اور عوامی مفادات کے تحفظ کو ممکن بنا سکتا ہے

بلوچستان کے بعض علاقوں میں قبائلی اثرورسوخ سماجی سیاسی اور معاشرتی زندگی پر گہرا اثر رکھتا ہے تاہم پورے صوبے کو ایک ہی سماجی رویے یا سوچ میں محدود کرنا درست نہیں بلوچستان میں مختلف ثقافتیں روایات سماجی رویے اور تبدیلی کے لیے کام کرنے والی ترقی پسند آوازیں موجود ہیں
اس لیے مسئلے کو کسی قوم قبیلے یا ثقافت کی شناخت سے جوڑنے کے بجائے ان مخصوص رویوں اور فیصلوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو خواتین کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتے ہیں
قبائلی عمائدین کا سماجی اثرورسوخ بعض علاقوں میں تنازعات کے حل مقامی امن اور مصالحت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے اہم سوالات یہ ہیں کہ آیا قبائلی سطح پر خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق دیا جاتا ہے؟ کیا کسی خاتون کے خلاف ناانصافی کی صورت میں روایتی فیصلوں پر نظرثانی کی گنجائش موجود ہے؟ اور کیا صحافیوں کی غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کو قبول کیا جاتا ہے ؟
اس تناظر میں ضروری ہے کہ صحافت تصادم اور الزام تراشی کے بجائے مکالمے آگاہی اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے
قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لے کر خواتین کے حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے لیے ان کا تعاون حاصل کیا جائے کیونکہ پائیدار تبدیلی مخالفت سے نہیں بلکہ باہمی احترام شعور اور اجتماعی ذمہ داری سے ممکن ہے
قبائلی روایات اور ثقافت کا احترام اپنی جگہ لیکن کسی روایت یا سماجی فیصلے کو انسانی جان عورت کی عزت نفس اور خواتین کے بنیادی حقوق اور انصاف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے
صحافتی حلقوں کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد کو محض ایک سماجی واقعہ سمجھنے کے بجائے انسانی حقوق قانون کی عمل داری اور انصاف کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے
اسی طرح صحافیوں کے تحفظ کو محض ایک پیشہ ورانہ مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے شہریوں کے حق معلومات اور جمہوری معاشرے کی ضرورت کے طور پر تسلیم کرنا بھی ضروری ہے
کیونکہ بظاہر بلوچستان میں خواتین کے حقوق اور صحافت کی آزادی دو الگ موضوعات دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں
جب عورت کو اپنے حق کے لیے بولنے میں خوف محسوس اور صحافی کو سچ لکھنے کے ممکنہ نتائج کا خدشہ ہو تو ناانصافی کے خلاف آوازیں کمزور پڑ جاتی ہیں

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!