پاکستان کو ایک سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض ملے،سعودی عرب سب سے بڑا مالی معاون رہا۔
پاکستان کو ملنے والے بیرونی قرضوں اورگرانٹس کی تفصیلات سامنے آگئیں، اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق پاکستان کو گزشتہ مالی سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض اور مالی معاونت حاصل ہوئی،جو تقریباً 4 ہزار 517 ارب روپے کے برابر ہے،غیرملکی قرضوں کا 19.92 ارب ڈالرکا سالانہ ہدف پورا نہ ہوسکا،پاکستان کو سالانہ ہدف سے 3 ارب 72 کروڑ ڈالرکم فنانسنگ ملی۔
دستاویزات کےمطابق صرف جون 2026 میں پاکستان نے 4 ارب ڈالر سےزائد قرض حاصل کیا،جبکہ مختلف عالمی مالیاتی اداروں نے مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر سے زائد کی فنانسنگ فراہم کی۔
سعودی عرب،چین سمیت مختلف ملکوں نے 1.35 ارب ڈالر قرض دیا،سعودی عرب پاکستان کا سب سے بڑا مالی معاون رہا،جس نے 3 ارب ڈالرکےنئےڈیپازٹس،ایک ارب ڈالرکا قرضہ اور ایک ارب ڈالر کے ادھار تیل کی سہولت فراہم کی۔
اسی دوران نیاپاکستان سرٹیفکیٹس کی مدمیں 3 ارب ڈالرسےزائد،جبکہ عالمی بینکوں سے 1.90 ارب ڈالر کاکمرشل قرض بھی حاصل کیاگیا،عالمی بینک نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد قرض دیا،ایشیائی ترقیاتی بینک نے 1.77 ارب ڈالر اور عالمی بینک نے ڈیڑھ ارب ڈالر سےزائد قرض فراہم کیا،جبکہ چینی بینک نے 1.70 ارب ڈالرکےقرضےکوری فنانس کیا،ایک سال میں برطانوی بینک نےپاکستان کو 20 کروڑڈالرکمرشل قرض دیا۔
اقتصادی امورڈویژن کےمطابق آئی ایم ایف نےپاکستان کو 42 کروڑ ڈالر فراہم کئے،آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کےقرض پروگرام کی اقساط اس کےعلاوہ پاکستان نے پراجیکٹ لونزکی مدمیں گزشتہ سال 3.43 ارب ڈالرحاصل کیے،نان پراجیکٹ قرضوں کی مدمیں 12.72 ارب ڈالرحاصل کیے گئے،مالی سال میں پاکستان کو 14 کروڑ 95 لاکھ ڈالر گرانٹ بھی حاصل ہوئی۔

