حکومت بلوچستان نے گندم کاشت کرنے والے چھوٹے زمینداروں اور خصوصا کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تھریشر سبسڈی اسکیم پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کاشتکاروں کو در پیش مالی دباؤ میں کمی لانا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ اب تک 3 ہزار 102 کسانوں کے اکاؤنٹس میں سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے
جبکہ آئندہ دو سے تین روز میں مزید 13 ہزار 128 کسانوں کو سبسڈی فراہم کر دی جائے گی اسی طرح بتدریج تمام کسانوں کے اکاؤنٹس کے تصدیقی عمل کے ساتھ ہی تھریشر سبسڈی کی فراہمی کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا محکمہ زراعت حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں 85 ہزار 821 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جن میں سے 74 ہزار 202 کی تصدیق مکمل کی جا چکی ہے بلوچستان میں گندم کاشت کرنے والے زمینداروں کی تعداد 68 ہزار 972 ہے
جبکہ 50 ہزار 329 ایسے کاشتکار ہیں جن کے پاس 5-12 ایکڑیا اس سے کم زرعی زمین موجود ہے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کہا کہ خطے میں کشیدگی کے دوران فیول کی قیمتوں میں اضافے نے زراعت سے وابستہ افراد کو شدید متاثر کیا ہے خصوصاً وہ چھوٹے زمیندار اور کسان جن کی گندم کی فصلیں تیار ہو چکی ہیں
اور اب تھریشر کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ایسے کاشتکاروں کو فی ایکڑ کے حساب سے فیول سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اضافی بوجھ کم کیا جا سکے اور وہ اپنی فصل کی بر وقت کٹائی اور تھریشر کا عمل مکمل کر سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو در پیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے لیے عملی ریلیف فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سبسڈی کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز و شفاف اور موثر بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق کسان اس سے مستفید ہو سکیں اور صوبے میں زرعی پیداوار کو فروغ حاصل ہو۔

