بدھ, اکتوبر 21, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںمولانا فضل الرحمان کے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق بیان کی...

مولانا فضل الرحمان کے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہیں،دو سال کے دوران 450 دہشت گرد گرفتار، 1100 ہلاک ہوئے،میر ضیاءاللہ لانگو

کوئٹہ:صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق گمراہ کن بیانات دیے جا رہے ہیں اور صوبے کی صورتحال کا خیبر پختونخوا سے موازنہ کرنا درست نہیں۔ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور اس جنگ میں کامیابی کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ریاست کے ساتھ کھڑی ہوں تاکہ ملک کو درپیش مشکلات سے نکالا جاسکے۔کوئٹہ میں معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود بھی ایک مشکل دور سے گزر چکے ہیں اور ان کی جماعت بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہے، اس لیے بلوچستان کی صورتحال اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے متعلق بیانات دیتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو حکومت کی مکمل معاونت درکار ہوتی ہے۔ اگر خیبر پختونخوا حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرتی تو ان کے بقول ہنگامی اقدامات کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ختم ہونے کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس عمل میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔شاہد رند نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز پر تنقید درست نہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین کی منظوری کے لیے کابینہ کے ساتھ صوبائی اسمبلی کا فورم بھی استعمال کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششوں کو بھی ایک ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس نوعیت کے مارچ کی بات نہیں کی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو سال کے دوران کیے گئے اقدامات اور کارروائیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 18 قوانین اور 17 محکمے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق فیس لیس کورٹ بھی قائم کی گئی ہے، جہاں 90 افراد کے کیسز درج کیے گئے ہیں۔حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران مختلف علاقوں میں 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، چھاپے اور دیگر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 450 دہشت گرد گرفتار جبکہ 1100 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس سمیت سیکیورٹی فورسز کے 300 سے زائد افسران اور اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 551 بے گناہ شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان میں 11 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس اپنے ملک بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آمدورفت کو محفوظ بنایا جاسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ داخلہ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے اور اسلحہ لائسنسوں کے نظام کو بھی ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور متعلقہ نظام میں بہتری لانا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو، معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، قانون سازی اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!