جمعرات, اگست 13, 2026
ہوماہم خبریںکالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں صوبے کیلیے سیکیورٹی چیلنج ہیں، وزیراعلیٰ...

کالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں صوبے کیلیے سیکیورٹی چیلنج ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ

کراچی: 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں صوبے کیلیے سیکیورٹی چیلنج ہیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر اور دیگر  حکام  نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے موجودہ سکیورٹی صورتحال اور سی ٹی ڈی کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا ۔ اجلاس میں جاری تحقیقات، انفرا اسٹرکچر اور مستقبل کی آپریشنل ضروریات پر وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ کالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں صوبے کے لیے بدستور سیکیورٹی چیلنج ہیں۔

 وزیر داخلہ ضیا  الحسن لنجار نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سندھ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2025ء میں سندھ میں دہشت گردی کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے، 2026 میں تعداد کم ہوکر 9 ہوگئی۔ سندھ میں رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً  76 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔

آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ 2026ء میں رپورٹ ہونے والے 9 میں سے 7 دہشت گردی کے واقعات کا سراغ لگا کر تحقیقات مکمل کرلی گئیں۔ ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک نے بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات کا تقریباً  78 فیصد ڈٹیکشن ریٹ حاصل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ سی ٹی ڈی نے 2026ء میں 918 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، اس دوران 87 دہشت گرد گرفتار کیے گئے۔ رواں سال مختلف مقابلوں میں 4 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔ سی ٹی ڈی نے پولیس اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں ملوث متعدد دہشت گرد نیٹ ورکس توڑ دیے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ کو دہشتگردوں سے منسلک نیٹ ورک کے اہم ارکان کی گرفتاری سےمتعلق آگاہی  دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ کراچی میں فالو اپ آپریشن آپریشن کے دوران مرکزی ملزم اور ساتھی گرفتار  کیا گیا ہے، اسلحہ و دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزمان پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔ کالعدم باغی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 عسکریت پسند مقابلوں میں ہلاک کیے گئے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم تنصیبات پر متعدد منصوبہ بند حملے ناکام بنائے گئے۔ سی ٹی ڈی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ شمالی سندھ میں ریلوے ٹریکس پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث نیٹ ورک بھی توڑ دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گرفتاریوں کے نتیجے میں تخریبی کارروائیوں کے منصوبے ناکام بنائے ہیں۔ اہم ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر کو محفوظ بنایا گیا ہے۔کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سے متعلق آئی جی پولیس نے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کے مقدمے میں 9 ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران متعدد تفتیشی سیشنز کیے گئے اور کئی سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بند حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی گئیں۔ فرقہ وارانہ تشدد اور انتہا پسند نیٹ ورکس سے منسلک متعدد مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر نے انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور ڈیجیٹل تحقیقات میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق فیوژن سینٹر کے پہلے مرحلے میں 32 ہزار سے زائد سیلولر سپورٹ اینالیسز کیے گئے۔ 31 ہزار سے زائد کرائم ڈیٹا اینالیسز مکمل کیے گئے۔ ایک ہزار سے زائد ڈیجیٹل فرانزک ایگزامنیشن کیے گئے۔ ایک ہزار 600 سے زائد ویژول اینہانسمنٹ کیسز پر کارروائی کی گئی اور انتہا پسند سرگرمیوں سے منسلک سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک یا رپورٹ کیے گئے۔

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے مطالبہ کیا کہ جدید انٹیلی جنس سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل فرانزک ٹولز کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کرائم اینالیٹکس پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت سے لیس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز بھی دی

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے فیوژن سینٹر کے لیے جی پی یو پر مبنی جدید انفرا اسٹرکچر کی فراہمی پر زور دیا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ سندھ بھر میں سی ٹی ڈی کے انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکھر میں علیحدہ سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی اور حیدرآباد میں جدید سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر کے منصوبے منظوری کے لیے پیش کیے ہیں۔ اس کے علاوہ سی ٹی ڈی نے بکتر بند گاڑیوں اور نگرانی کرنے والے ڈرونز کی ضرورت سے بھی شرکا کو آگاہ کیا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرک گاڑیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے لیے موٹر سائیکلوں کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی گیٹس، سی سی ٹی وی سسٹمز اور دیگر حفاظتی انفرا اسٹرکچر بھی آپریشنل ضروریات میں شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مزید بہتر بنایا جائے۔ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اہم انفرا اسٹرکچر اور اسٹریٹجک تنصیبات کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور سندھ میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کو بھی ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چیف سیکرٹری کو حکم دیا کہ جدید نگرانی کے آلات کی خریداری کا عمل تیز کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سی ٹی ڈی کے لیے خصوصی آپریشنل وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔ اداروں کو مضبوط، انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید مؤثر اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!