کوئٹہ:
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں محرم الحرام کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت ترین سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایس پی سٹی آصف غفور کے مطابق نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر تمام شہری علاقوں میں موبائل فون سگنلز مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ عناصر سے نمٹا جا سکے۔
ایس پی سٹی آصف غفور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے مقدس ایام میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس کی طرف سے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ نویں اور دسویں محرم کو شہر کے تمام اہم شہری علاقوں، جلوسوں کے راستوں اور حساس مقامات پر موبائل نیٹ ورکس بند رہیں گے۔ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے، جبکہ راہداریوں، چوٹیوں اور اہم عبادت گاہوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلوسوں اور مجالس میں شرکت کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
محرم الحرام کے دوران کوئٹہ پولیس نے متعدد اجلاس منعقد کیے، جن میں صوبائی حکومت، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اور 10محرم کو نہ صرف موبائل سگنلز بند رہیں گے بلکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی، ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے پابندیاں اور ٹریفک ڈائیورژن کے پلان بھی نافذ العمل ہوں گے۔ شہر کے مختلف علاقوں جیسے سرِآب روڈ، جیسٹ کانٹ، بلیو ایریا، سٹی روڈ، لیا قت روڈ اور دیگر حساس مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
ایس پی سٹی نے بتایا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کربلا کے سانحہ کی یاد میں منائے جانے والے یہ ایام مکمل امن و سکون کے ساتھ گزریں۔
شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے سیکیورٹی اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک مقامی تاجر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ موبائل سگنل بند ہونے سے کچھ پریشانی ہوگی لیکن سیکیورٹی کے لیے یہ ضروری ہے۔ ہم سب کو صبر کرنا چاہیے تاکہ محرم کا ماحول پرامن رہے۔
دوسری جانب کچھ شہریوں نے متبادل مواصلاتی ذرائع جیسے لینڈ لائن فونز اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی تجاویز دیں۔ خواتین اور بزرگوں نے خاص طور پر پولیس سے درخواست کی ہے کہ جلوسوں کے راستوں پر خواتین کے لیے الگ سے محفوظ جگہیں مختص کی جائیں۔
یاد رہے کہ پچھلے برسوں میں بھی محرم الحرام کے دوران کوئٹہ سمیت ملک بھر میں موبائل سروسز جزوی یا مکمل طور پر معطل کی جاتی رہی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فونز دہشت گردوں کے لیے رابطے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں، اس لیے یہ احتیاطی تدابیر ناگزیز ہیں۔
ایس پی سٹی آصف غفور نے شہریوں کو یقین دلایا کہ تمام تر اقدامات کے باوجود ضروری خدمات جیسے ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور پولیس ہیلپ لائنز متاثر نہیں ہوں گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

