کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 1089 ارب روپے کا صوبائی بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ ایوان نے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے مالیت کے 53 جبکہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں 291 ارب روپے مالیت کے 45 مطالباتِ زر کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون 2026 بھی منظور کر لیا گیا۔
اتوار کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر پارلیمانی سیکرٹری ثقافت زرین مگسی نے جھل مگسی سے ایک ہندو نوجوان سمیت دو نوجوانوں کے اغوا کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ روایات کو مسلسل مسمار کیا جا رہا ہے اور سابق وزیراعلیٰ ذوالفقار مگسی کے ریسٹ ہاؤس سے دو نوجوانوں کا اغوا باعثِ شرم واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مغویوں کی بازیابی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
بعد ازاں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے 53 غیر ترقیاتی اور 45 ترقیاتی مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے، جنہیں اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن اراکین کی جانب سے مطالباتِ زر میں کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی۔
بجٹ کی منظوری کے بعد اسمبلی کارروائی میں 15 منٹ کا وقفہ کیا گیا، جس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے بجٹ دستاویزات پر دستخط کیے۔
اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے مالی سال 2026-27 اور مالی سال 2025-26 کے ضمنی اخراجات کے تصدیق شدہ گوشوارے ایوان کی میز پر رکھے۔ بعد ازاں انہوں نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون 2026 پیش کیا، جسے ایوان میں زیرِ غور لانے کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

