کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ بلوچستان میں میڈیا انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہے، جبکہ بعض الیکٹرانک میڈیا ادارے صوبے میں اپنے بیوروز بند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے 43 فیصد رقبے پر مشتمل صوبہ ہے، اس لیے اسے بھی دیگر صوبوں کی طرح یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے بات کی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر کو اس بات کا علم ہے کہ بعض میڈیا اداروں کو بلوچستان سے مطلوبہ کاروباری فوائد حاصل نہیں ہو رہے، تاہم بلوچستان بھی پاکستان کا اہم حصہ ہے اور اس کی آواز کو دبانے نہیں دیا جائے گا۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کسی بھی میڈیا ادارے کا بیورو بند نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی میڈیا ورکرز کو بے روزگار ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان اربوں روپے کماتے ہیں، اس لیے کارکنوں کے روزگار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے عطا اللہ تارڑ سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان حکومت اور صوبائی اسمبلی میڈیا کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو بند کیے گئے بیوروز دوبارہ فعال کیے جائیں یا پھر دیگر ٹی وی چینلز کے بیوروز بھی بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعی قومی میڈیا ہے تو بلوچستان میں اس کی مؤثر اور فعال موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان نہیں بلکہ بے روزگاری ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ وہ میڈیا بیوروز کی بندش کے معاملے پر وزیراعظم پاکستان سے بھی بات کریں گے۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے بلوچستان کا یہ مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے کہا کہ وہ اپنے ٹی وی چینل کا بیورو بھی بلوچستان میں فعال کریں۔

