ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل تاحال ناکام نہیں ہوا، تاہم امریکی رویے نے اس صورتِ حال کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بل کہ ایران نے ایک خونریز جنگ میں صرف اپنا دفاع کیا۔ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذمے دار ایران نہیں، یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے بند ہے۔ واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور امریکا پر اعتماد کرنا ممکن نہیں رہا۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کہا کہ نے کہا ہے کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ایران نے ایک خونریز جنگ میں صرف اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے تمام تر دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود 40 روز میں کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکا، جبکہ موجودہ مذاکراتی عمل میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذمے دار ایران نہیں، تاہم یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے بند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور ایران و عمان مشترکہ نظام کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کو سنبھالیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور امریکیوں پر اعتبار نہ کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے 2015 میں امریکا کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے تھے، جنہیں دنیا نے سفارتکاری کی بڑی فتح قرار دیا، لیکن ایک سال بعد ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے سے الگ ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پانچویں دور کے دوران ایران پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد اعتماد کا بحران مزید بڑھ گیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’’اس بار سب سے بڑا سوال بھروسے کا ہے، ہمیں ان پر اعتبار نہیں‘‘۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل موجود نہیں اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے کچھ حاصل نہ ہونے پر امریکا نے دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ ایران اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا بھی سنجیدگی دکھائے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا اور اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کے مطابق ایران جے سی پی او اے پر مکمل عملدرآمد کررہا تھا اور برسوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا کارروائی کی مزاحمت کرے گا اور جو اہداف جنگ سے حاصل نہ ہوسکے، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
بھارت سے متعلق گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ نئی دہلی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک پڑوسی ملک نے امریکا اور اسرائیل کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی حدود اور اڈے فراہم کیے، تاہم اس ملک کا نام نہیں لیا۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے اور تمام سفارتی کوششوں کا مثبت جواب دیا گیا ہے، لیکن امریکی رویے کے باعث سفارتی عمل ایک مشکل مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

