ایران نے پورٹ ایبل لانچر سے چلنے والے میزائلوں کے حصول کیلئے روس سے 59 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کرلیا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اگلے 3 سال کے دوران روس ایران کو 2500 میزائل اور 500 پورٹ ایبل لانچر یونٹ فراہم کرے گا۔
یہ میزائل زمین سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میزائل کو کندھے پر رکھ کر چلایا جاسکتا ہے۔ یہ معاہدہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا۔ یہ ہتھیار 2027 سے 2029 کے دوران ایران کو موصول ہونگے۔
میزائل کی فی یونٹ قیمت تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار یورو جبکہ لانچر کی قیمت 40 ہزار یورو مقرر کی گئی۔دستاویزات کے مطابق یہ معاہدہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا اور اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔
روسی ساختہ وربا نظام جدید انفرا ریڈ گائیڈڈ میزائل ہے جو کروز میزائل، کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور چھوٹے متحرک دستوں کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے جولائی میں اس نظام کی باضابطہ درخواست دی تھی، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے فوراً بعد سامنے آئی۔ جنگ کے دوران ایران کے مربوط فضائی دفاع کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس سے اسرائیلی فضائیہ کو برتری حاصل ہوئی۔

