مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے غیر مشروط مذاکرات ہوسکتے ہیں، تاہم ایمرجنسی واپس لینے کی شرط قبول نہیں کی جاسکتی۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی اور حکومت ملاقات کے لیے کسی تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط تسلیم نہیں کرے گی۔
اپنے بیان میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بل کہ ریاست کی ملکیت ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی ضد پہلے بھی کی جاتی رہی ہے، جو قابل قبول نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بتانا چاہیے کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کب آئیں گے، حکومت ان کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط لکھے ہیں۔
مشیرِ وزیرِاعظم کے مطابق ایک خط وزیراعظم کی امریکا روانگی سے پہلے بھیجا گیا تھا، جب کہ دوسرا واپسی پر ارسال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب اپوزیشن لیڈر کے جواب کی منتظر ہے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات ہوسکتے ہیں، تاہم ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر بات چیت ممکن نہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی نے پہلے مذاکرات کو موقع ہی نہیں دیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایمرجنسی کے تحت قائم انتظامی سیٹ اپ کو مناسب وقت دیا جائے گا اور حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ لڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرے تو اس معاملے پر بات ہوسکتی ہے۔

