اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب متوقع مارچ سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو ایک آئینی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی ایسے عہدیدارِ سرکار، جس کے اقدامات کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو، اسے آئین اور اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔
اسلام آباد کے متعلقہ حلقوں کا خیال ہے کہ پیر کو جاری کیا جانے والا یہ حکم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی وفاقی دارالحکومت کی جانب متحرک ہونے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ پر براہِ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ریاستی مشینری اور وسائل کو مارچ میں سہولت فراہم کرنے کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی میں، جو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی جانب جائے، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کوئی سرکاری وسائل، عوامی فنڈز یا سرکاری اہلکار استعمال، فراہم یا شرکت کیلئے مقرر نہ کیے جائیں۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ ایسے کسی بھی سرگرمی کے شرکاء کی مدد یا سہولت کاری کیلئے کوئی سرکاری گاڑی، مشینری یا دیگر سامان استعمال نہ کیا جائے۔
حکم میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو اسلام آباد جانے والے کسی مارچ یا ریلی میں شرکت کے لیے مجبور، دباؤ میں، ترغیب دے کر یا کسی اور طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے عدالت کی مخصوص تنبیہ ہی اس حکم کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کیلئے ممکنہ طور پر دور رس نتائج کا حامل بناتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جس شخص کی سرگرمی کے نتیجے میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو، اسے آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب تصور کیا جائے گا اور وہ قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرکاری عہدیدار کے معاملے میں عدالت نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ ایسا طرزِ عمل آئین اور آئین کے تحت عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا، جس کے باعث عہدیدار آئین اور قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔
عدالتی حکم میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ خلاف ورزی کا مرتکب قرار پانے والا وزیراعلیٰ خودبخود اپنے عہدے سے محروم ہوجائے گا۔ تاہم، آئین اور عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کے حوالے سے اس میں دی گئی تنبیہ کسی موجودہ وزیراعلیٰ کو ایسے آئینی نتائج سے دوچار کر سکتی ہے جو اس کے عہدے پر برقرار رہنے کو خطرے میں ڈال دیں۔
عدالت نے صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ایسے طریقۂ کار وضع کیے جائیں جن کے ذریعے سرکاری اہلکار سیاسی رہنماؤں یا سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ میں سہولت فراہم کرنے کیلئے کسی بھی قسم کے دباؤ یا ترغیب کی اطلاع دے سکیں۔
عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ چنانچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کیلئے یہ حکم ایک خاصا مشکل آئینی توازن پیدا کرتا ہے: وہ بدستور پی ٹی آئی کے ایک سیاسی رہنما ہیں، لیکن مارچ میں سہولت فراہم کرنے کیلئے صوبائی حکومت، اس کے وسائل یا سرکاری اہلکاروں کے استعمال کی کسی بھی کوشش کے اب ایسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو معمول کی انتظامی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر خود ان کے آئینی عہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

