ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر بے اعتمادی کے سبب اس سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، امریکا کا ہدف ایران حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آرمینیا کے وزیر خارجہ ارارات مرزویان نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے تہران میں ملاقات کی۔
اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جب بھی ایران مذاکرات کی میز پر آیا اسے فوری طور پر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد تین بار ایران پر حملے کیے جاچکے ہیں جو اس بات کا اظہار ہے کہ امریکا کو ڈائیلاگ میں دلچسپی نہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایسا دشمن جو ہر روز قتل، پابندیوں، دباؤ، دھمکانے اور وعدے توڑنے والا ہو اس سے مذاکرات بے معنی ہیں۔
ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ قفقاز کو جیو پولیٹیکل دشمنی کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
قالیباف نے خلیج فارس کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ غیرعلاقائی طاقتوں کی مداخلت سے عدم تحفظ بڑھتا ہے۔
آرمینیا کے وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ انکا ملک اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا۔
ارارات مرزویان نے کہا کہ علاقائی ممالک کی موجودہ سرحدوں کا تحفظ کرنا آرمینیا کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔

