سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوششیں شروع کردیں۔
بلومبرگ نے معاملے سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران عالمی منڈیوں تک خام تیل پہنچانے کا اہم ترین ذریعہ بننے والی کلیدی پائپ لائن پر حملوں اور اس کی بندش کے بعد سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی سپلائی مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مملکت نے اگست کی سطح کے مقابلے میں رواں ماہ کے ابتدائی 10 دنوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں پہلے ہی اضافہ کر دیا تھا اور اب سپلائی کو مزید بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران سے بچنے کے لیے سعودی عرب ‘ایسٹ ویسٹ’ پائپ لائن کو استعمال کر رہا تھا تاہم گزشتہ ہفتے اس پائپ لائن کو کم از کم دو مقامات پر نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق دو علاقائی عہدیداروں کا بتانا ہے کہ یہ پائپ لائن کئی ہفتوں تک غیر فعال رہے گی۔
بلومبرگ کے مطابق پائپ لائن پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں سے قبل ہی تیل کی لوڈنگ کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا جبکہ حالیہ ہفتوں میں ایک درجن سے زائد سعودی بحری جہازوں کا بیڑا آبنائے ہرمز کے بالکل باہر انتظار کر رہا تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے بھی گزشتہ چند دنوں کے دوران خلیج فارس میں واقع سعودی عرب کے ایک بڑے ایکسپورٹ ٹرمینل پر تیل بردار جہازوں کی لوڈنگ میں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی آرامکو پائپ لائن کی بندش کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ہرمز کے راستے ترسیل میں کتنی اور کس تیزی سے اضافہ کر سکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ستمبر کے اوائل میں آرامکو اپنی مجموعی برآمدات کو بڑھا کر 40 لاکھ بیرل یومیہ کے قریب لے آئی تھی جس میں سے تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ آبنائے ہرمز کے راستے اور باقی بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے برآمد کیا جا رہا تھا۔
بلومبرگ، ورٹیکسا اور کپلر کے جمع کردہ ٹینکر ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اگست میں سعودی تیل کی مجموعی ترسیل کم ہو کر تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھی جو کہ کم از کم گزشتہ 9 سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

