وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک نے مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، نئے ممبران کی شمولیت سے متعلق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےسے متعلق کمیٹی کا آئندہ اجلاس اکتوبر کے آغاز میں ہوگا، مقام کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائےگا تاہم ممکنہ طور پر اجلاس پاکستان میں ہوسکتا ہےفیصلہ قیادت کرے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سے متعلق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں دفاعی اتحاد میں توسیع پر بھی مشاورت ہوئی، توسیع کب ہونی ہے تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
وزیردفاع کے اجلاس میں نئے لوگوں کے مکہ معاہدہ میں شامل ہونے کے پروسیجر پر بھی مشاورت ہوئی، کتنی مدت کے بعد نئے ممبران کے لیے دروازے کھولنے چاہیے اس پر بات ہوئی ہے، اگلی ملاقات میں وہ پروسیجر سامنے آجائے گا۔
خواجہ آصف کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سے متعلق آئندہ اجلاس اکتوبر کے شروع میں ہوگا، اجلاس کہاں ہوگا اس بارے فیصلہ باہمی مشاورت سے ہوگا ، جب ضرورت پڑے گی مکہ دفاعی اتحاد کا سربراہی اجلاس بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاس میں تنظیم کے ڈھانچہ ، عہدیداروں اور سیکرٹریٹ کے بارے مشاورت ہوئی ہے، سیکرٹری جنرل اور اس کے نیچے کے ڈھانچہ اور دفاتر پر بات چیت ہوئی ہے۔ پاکستان سے سیکرٹری جنرل کون ہو گا میرے علم میں نہیں۔
واضح رہے کہ 3 روز قبل بھی میڈیا سے گفتگو میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ نئے ممالک کی شمولیت فوری ہوگی یا کسی عبوری مدت کے بعد اس حوالے سے فیصلہ بعد میں ہو گا، تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی اسٹرکچر عملی شکل اختیار کر جائے گا۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے تاہم بنیادی اصول اور اسٹرکچر طے کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کےخلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور یہ اتحاد کسی کے ساتھ لڑائی یا جارحیت کیلئے نہیں بنایا گیا بلکہ ہمارامقصد دفاعی معاہدہ ہے،کسی کیخلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، دفاعی اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کی باہمی حفاظت اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

