ہفتہ, اگست 1, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںحقیقت ہے کہ سرداری نظام جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ...

حقیقت ہے کہ سرداری نظام جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہا، میر ظہور احمد بلیدی

کوئٹہ:بلوچستان کے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ اگرچہ بلوچستان کا سرداری نظام ایک ترقی پسند نظام نہیں رہا اور ماضی میں اس نظام کے باعث عام لوگوں کی ترقی اور بااختیار بنانے کے عمل کو نقصان پہنچا، تاہم بلوچستان کو درپیش موجودہ سیکیورٹی، سیاسی اور سماجی مسائل کا بنیادی سبب صرف مقامی عوامل نہیں بلکہ ان میں بیرونی طاقتوں کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاری کردہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کا تجزیہ حقیقت پسندانہ انداز میں کیا جانا چاہیے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ تمام سرگرمیاں صرف مقامی افراد کی منصوبہ بندی یا صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بقول صوبے میں ہونے والی پیچیدہ کارروائیوں کے پیچھے جدید اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی، خفیہ معلومات اور بیرونی معاونت جیسے عوامل موجود ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا میر ظہور بلیدی نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرداری نظام جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہا اور اس نے مختلف ادوار میں عوامی ترقی، تعلیم اور سماجی شعور کے فروغ میں رکاوٹیں پیدا کیں، لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو صرف اسی ایک عنصر سے جوڑ دینا بھی درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کے لیے بیرونی عناصر مسلسل سرگرم ہیں، جو جدید اسلحہ، مالی وسائل اور انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، معدنی وسائل اور سرحدی محل وقوع کی وجہ سے مختلف بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے یہاں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اسی تناظر میں صوبے میں ہونے والے بعض واقعات کو صرف مقامی سطح کی کارروائیاں قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان اور ریاستی ادارے صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل، روزگار کے مواقع، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت سمت فراہم کی جا سکے۔ میر ظہور بلیدی نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل الزام تراشی یا یکطرفہ تجزیے میں نہیں بلکہ حقائق کو تسلیم کرنے، قومی یکجہتی، سیاسی استحکام، عوامی شمولیت اور بیرونی مداخلت کا مثر مقابلہ کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بیرونی عناصر کے کردار کو سنجیدگی سے نہیں دیکھا جائے گا، اس وقت تک بلوچستان کے مسائل کی درست تشخیص اور پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!