بدھ, جولائی 8, 2026
ہوماہم خبریںوزارتِ آبی وسائل میں 7 ارب روپے سے زائد کی مالی بے...

وزارتِ آبی وسائل میں 7 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی جانب سے وزارت آبی وسائل (Mower) اور اس کے ماتحت اداروں کے جامع آڈٹ میں مالی سال 25-2024 کے دوران 7 ارب 2 کروڑ روپے (7.02 ارب روپے) مالیت کی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ میں وزارت کے 112 انتظامی یونٹس کا جائزہ لیا گیا، جن کے دوران 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور 194.2 ارب روپے کی وصولیوں کی جانچ کی گئی۔

آڈیٹرز کی جانب سے نشاندہی کی گئی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں جنوری سے دسمبر کے دوران صرف 28 لاکھ 21 ہزار روپے (2.821 ملین روپے) کی وصولی عمل میں آئی، جس کی تصدیق بھی کی گئی۔

وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں سے متعلق جاری کی گئی نئی آڈٹ رپورٹ میں داخلی کنٹرول کے نظام کی سنگین کمزوریوں، سرکاری خریداری کے قواعد کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں اور انتظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) بھی شامل ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بے ضابطگیوں کو ادارہ جاتی ناکامی کی سات بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، سب سے زیادہ بے ضابطگیاں مالیاتی انتظام میں سامنے آئیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے