ہفتہ, مئی 16, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان میں اہلِ قلم اور اساتذہ پر حملے علم و شعور کو...

بلوچستان میں اہلِ قلم اور اساتذہ پر حملے علم و شعور کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں، پروفیسر غم خوار حیات کا قتل علمی حلقوں پر حملہ قرار،بساک

بلوچستان میں علم کا شمع روشن ہے۔ ان جیسے استادوں کو نشانہ بنانا نہ صرف سنگین مجرمانہ عمل ہے بلکہ انسانی سوچ کو قتل کرنے کے مترادف ہے

بلوچستان میں اساتذہ، شعرا، ادیبوں، سیاسی کارکنوں، طلبہ اور اہلِ قلم کو مسلسل نشانہ بنایا جانا نہ صرف افسوسناک بلکہ صوبے کی علمی و فکری شناخت پر حملہ ہے۔ وہ لوگ جو کتاب، قلم اور علم کے ذریعے معاشرے میں شعور بیدار کرتے ہیں، آج عدم تحفظ اور خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو شخص سماج کی بہتری، علم کی ترویج اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، اور بعض اوقات بے دردی سے قتل کرکے اس کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ علم، شعور اور فکر کو کبھی گولیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے مظالم ان آوازوں کو مزید طاقتور بناتے ہیں۔

پروفیسر غم خوار حیات براہوی زبان کے استاد، ادیب اور دانشور تھے، جنہوں نے اپنی زندگی علم و ادب کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نہ صرف براہوی زبان و ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ نوجوان نسل کو علم و شعور کی راہ دکھانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریریں، تدریس اور فکری جدوجہد ایک حقیقی استاد کی عکاسی کرتی تھیں۔

ان کا قتل دراصل علم، فکر اور مادری زبان کے فروغ کے خلاف ایک سنگین حملہ ہے۔ انہیں سوچنے، لکھنے، پڑھانے اور نوجوانوں کو شعور دینے کی سزا دی گئی۔ بلوچستان میں اس سے قبل بھی کئی اساتذہ اور دانشور تشدد کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ استاد سوا دشتیاری سے لے کر پروفیسر صبا دشتیاری اور اب پروفیسر غم خوار حیات تک، یہ تمام شخصیات علم کی شمع روشن رکھنے کی پاداش میں قربان ہوئیں۔

پروفیسر غم خوار حیات کی نوشکی میں شہادت اور اس سے قبل سریاب میں پروفیسر صبا دشتیاری کا قتل بلوچ قوم کی فکری اور علمی سوچ پر حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے خاموش رہنے کے بجائے قلم اٹھایا، علم پھیلایا اور نوجوان نسل کو شعور دیا۔ آج بلوچستان میں علم کی جو روشنی باقی ہے، اس میں ایسے اساتذہ اور دانشوروں کا بنیادی کردار شامل ہے۔

اہلِ علم کو نشانہ بنانا نہ صرف ایک سنگین مجرمانہ عمل ہے بلکہ انسانی فکر اور شعور کے قتل کے مترادف بھی ہے۔ ہم پروفیسر غم خوار حیات کے بے دردانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور تمام اساتذہ، دانشوروں، طلبہ اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کریں تاکہ علم اور شعور کو دبانے کی یہ کوشش ناکام ہو۔

ساتھ ہی متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے