آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے آئندہ بجٹ میں بڑی ٹیکس رعایت دینے سے حکومت کو روک دیا۔
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر مذاکرات جاری ہیں۔
اس حوالے سے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کو اگلے مالی سال کے بجٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کو انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر عائد ٹیکس واپس لینے سے روک دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو دی جانے والی ایک بڑی ممکنہ ٹیکس رعایت کی مخالفت کی، جس کے بعد وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس نے انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی بجٹ تجویز مسترد کر دی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے بجٹ جائزہ اجلاس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس نے کارپوریٹ گروپس کے اندر تقسیم کیے جانے والے منافع، یعنی انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ، پر ٹیکس میں نرمی کی تجویز کا جائزہ لیا تھا تاکہ کمپنیوں پر ایک ہی آمدن پر بار بار ٹیکس عائد ہونے کے مسئلے کو کم کیا جا سکے اور ٹیکس نظام میں توازن بحال ہو۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس تجویز کے عملی شکل اختیار کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

