جمیعت علمائےاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم آئین، صوبائی خودمختاری اور 18 ویں ترمیم کی حفاظت کرینگے۔
ڈیرہ غازی خان میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج منسوخ نہیں بلکہ ملتوی کیا گیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ آئین، اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کا دفاع کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئین کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اٹھارہویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ کو صوبوں کا حق قرار دیا اور کہا کہ ان میں تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ مقاصد حاصل نہ ہونے پر صوبوں کو توڑنے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے، اگر کسی صوبے کو ضرورت ہو تو وہ آئین کے مطابق وفاق سے مدد لے سکتا ہے، مگر اس بنیاد پر آئینی ترامیم کی بات کرنا بلیک میلنگ ہے۔

