غزہ سٹی: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ حماس اور دیگر دھڑوں نے ثالثوں کو معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے، بشرطیہ کہ اسرائیل اس کی منظوری دے اور معاہدے پر عملدرآمد شروع کرے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا کہ حماس امریکی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ اسے معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت پر مجبور کیا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے حماس کی جانب سے منصوبے کے تحت غیرمسلح ہونے پر رضامندی کو اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ بورڈ آف پیس نے کہا تھا کہ اس کے بدلے اسرائیل غزہ کے بڑے حصے سے مرحلہ وار اپنی فوج واپس بلائے گا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کیے گئے "مسودے” سے اتفاق نہیں کیا۔
نیتن یاہو نے پیر کو بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملادینوف سے ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں ملادینوف نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیرمسلح ہونے کے بعد ہی غزہ سے انخلا کرے گا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے بھی حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

