پیر, جون 15, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںکٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کو ناپسندیدہ راستے...

کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کو ناپسندیدہ راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا، لاپتہ افراد اور نوجوانوں کے حقوق کا مسئلہ حل کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے: ساجد ترین ایڈووکیٹ کی پریس کانفرنس

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی بی ایس او ممبران کے ہمراہ کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ اور جوائنٹ سیکرٹری ابوبکر بلوچ سمیت بی وائی سی قیادت کو قتل کے جعلی مقدمات کے ذریعے بلیک میل کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر مرکزی چیئرمین بی ایس او بالاچ قادر، مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، بی این پی کے ضلعی آرگنائزر حاجی میر وحید لہڑی، مرکزی انفارمیشن سیکرٹری شکور، مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر، مرکزی جونیئر جوائنٹ سیکرٹری ابوبکر کلانچی، شال زون آرگنائزر کبیر بلوچ، اور دیگر موجود

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسلام آباد کی پالیسیوں اور بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بلوچستان کے نوجوانوں کو وہ راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا جو وہ نہیں چاہتے تھے۔

2024 میں گوادر دھرنے کے دوران بالاچ قادر اور ابوبکر بلوچ اور مہرنگ بلوچ، شاہ جی اور دیگر کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ ساجد ترین

ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائی اور انہیں بلیک میل کرنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ

بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں لاپتہ افراد کے معاملے پر سپریم کورٹ گئی جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہے، ہم نے سپریم کورٹ میں کہا کہ جب تک لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ

ہم جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں لیکن عدالتوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو بلوچستان کے عوام کے پاس کیا آپشن رہ جاتا ہے؟
بی ایس او اور بی وائی سی رہنما صرف منصفانہ ٹرائل کا مطالبہ کر رہے ہیں جو آئین میں ان کا حق ہے۔ ساجد ترین

اس کیس میں گواہوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، چہرے اور شناخت چھپاتے ہیں اور پھر بھی وہ اسے منصفانہ ٹرائل کہتے ہیں۔ ساجد ترین

اگر کٹھ پتلی حکومت عدالتوں پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتی ہے تو عوام کا اتنا وقت اور پیسہ کیوں ضائع کیا جائے، بس فیصلہ سنا دیں کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے کو ہر قیمت پر سزا ملنی چاہیے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ

بلوچستان نیشنل پارٹی، بی ایس او اور بی وائی سی کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر ان کے لیے آواز اٹھائے گی۔ ساجد ترین

اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست طاقتور ہے، بہت سے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے، جیلوں میں ڈالے گئے اور قتل بھی کیے گئے لیکن لوگوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا کبھی نہیں چھوڑا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ

آج بھی اگر درست پالیسیاں نہ اپنائی گئیں تو بلوچستان میں حالات مزید خراب ہوں گے، بلوچ اور پشتون دونوں کو ان کا جینے کا حق دینا ہوگا۔
بلوچستان کٹھ پتلی حکومت میں بیٹھے لوگوں کے پاس اختیارات نہیں، وہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے، بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں انہیں فائدہ نظر آتا ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ

بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی بی ایس او اور پارٹی ممبران کے ساتھ پریس کانفرنس

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے