گوادر: سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی کی کنٹانی بارڈر فائرنگ واقعے کی مذمت
گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی نے کنٹانی بارڈر پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر ماجد سہرابی، کہدہ علی بلوچ، عارفہ عبداللہ، ناصر موسی اور سعید فیض ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
میر حمل کلمتی نے کہا کہ کنٹانی ھور، جو ایران کے ساتھ ایک اہم ساحلی سرحدی علاقہ ہے، وہاں پاکستان کوسٹ گارڈز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں دو بے گناہ افراد جاں بحق جبکہ سات سے زائد افراد زخمی ہوئے، جو ایک افسوسناک سانحہ ہے۔
انہوں نے واقعے کو غیر ضروری طاقت کا استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنٹانی بارڈر گوادر کے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے، جہاں مقامی لوگ صدیوں سے سرحدی تجارت، خصوصاً پٹرول اور ڈیزل کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
میر حمل کلمتی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں سرحدی تجارت پر پابندیوں اور مشکلات کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق ان کے دور حکومت میں بارڈر ٹریڈ نسبتاً آزاد اور محفوظ انداز میں جاری تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے سرحدی تجارت کو سیاسی نعرہ بنایا، مگر آج حالات مزید خراب ہوچکے ہیں اور عوام مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، معاشی پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں عوام کو ان کے واحد ذریعہ معاش سے محروم کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کنٹانی گور فائرنگ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، شہداء کے لواحقین کو انصاف اور معاوضہ دیا جائے جبکہ زخمیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
میر حمل کلمتی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات نہ کیے تو بلوچستان نیشنل پارٹی احتجاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر منظم سازش کے تحت مقامی معیشت کو نقصان پہنچانے اور سرحدی تجارت کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں، حالانکہ یہ تجارت ہزاروں مقامی افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ، پاکستان کوسٹ گارڈز اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت کے لیے واضح، شفاف اور قابل عمل پالیسی مرتب کی جائے اور پالیسی سازی میں مقامی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔
میر حمل کلمتی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوام کے حقوق، روزگار کے تحفظ اور علاقے کی معاشی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

