چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نےکہا ہےکہ آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق ڈائیگناسٹک رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے، آئی ایم ایف کبھی بھی کلین چٹ نہیں دےگا۔
اسلام آبادمیں میڈیا کو غیر رسمی بریفنگ میں چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے گزشتہ تین سال میں جتنی ریکوری کی ہے ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوا، نیب جب ریکوری کرتا ہے تو اپنے پاس کچھ نہیں رکھتا، بلکہ تمام رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائی جاتی ہے۔
چیئرمین نیب نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئےکہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہاں سے فنڈنگ لیتی ہے؟ 800 بندوں سےکیسے پورے ملک کا سروےکر لیتے ہیں؟ کیا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل غیر سیاسی ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا ارکان پارلیمنٹ کے خلاف اب بھی کیسز چل رہے ہیں مگر اب ہم پریس ریلیز جاری نہیں کرتے، کئی کیس ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھیجے ہیں ، نیب کے نزدیک ملزم کی بھی اتنی ہی عزت ہے جتنی ہماری عزت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2 ماہ میں نئی ریئل اسٹیٹ اصلاحات آنے والی ہیں، ان اصلاحات کے بعد فائل سسٹم ختم ہوجائےگا ۔
اس سے قبل ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ نے بریفنگ میں نیب کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ گزشتہ سال میں نیب نے 6.123 کھرب کی ریکوری کی جس میں 5.96 کھرب مالیت کی سرکاری زمینیں واگزار کرائی گئی ہیں۔ اس سال کے پہلے تین ماہ میں نیب نے 2.96 کھرب کی ریکوری کی، جس میں 11 ارب کی پلی بارگین شامل ہے۔ ہر صوبے میں ممبر ریونیو کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو ریکور شدہ زمین کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں 471 شکایات پر کارروائی جاری ہے اور 37 منی لانڈرنگ کے ہائی پروفائل کیسز پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔
کوہستان اسکینڈل کے حوالے سے بتایا گیا کہ 37 ارب روپے کے کیس میں اب تک 29 ارب روپے تک پیشرفت ہو چکی ہے جب کہ رواں سال بھی 4 ارب روپے کی پلی بارگین ہو چکی ہے۔

