بدھ, اپریل 8, 2026
ہوماہم خبریںبین الاقوامی خبریںایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور...

ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ منگل کی رات بھی ہو سکتی ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیان دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ایران کو ایک رات میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ روز تاریخ کا بڑا اور اہم ریسکیو مشن سرانجام دیا،  ہم نے ایران سے پائلٹ کو دن کی روشنی میں نکالا۔

صدرٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ہی رات میں ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ رات شاید کل بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے لیے امریکی تجاویز نہایت اہم ہیں اور ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جب کہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم یہ اقدامات کیوں کر رہے ہیں، تو میں واضح کر دوں کہ ہم ایران کو نیوکلیر ہتھیار بنانے نہیں دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بعض افراد کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی منصوبہ نہیں، لیکن ہر ایک چیز منصوبے کے مطابق کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم پاور اسٹیشن پر حملے کریں گے تو اس سے ایرانی عوام کو نقصان پہنچے گا، لیکن ان کی منطق کے مطابق ایرانی عوام آزادی کے لیے تکلیف اٹھانا چاہتے ہیں اور خود کہتے ہیں کہ آؤ بمباری کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام درحقیقت آزادی چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے 7 دن کی مہلت مانگی تھی، میں نے کہا اسٹیو انہیں 10 دن دے دو، آج 10 دن کی مہلت ختم ہوگئی، لیکن ایسٹر کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھا، اب ان کے پاس منگل کی رات آٹھ بجے تک کا وقت ہے، اس کے بعد ان کے پاس کوئی پل اور کوئی پاور پلانٹ نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ مخلصانہ انداز میں بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے بہت سے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر پتھروں کا دور شروع ہو جائے گا، جی ہاں، پتھروں کا دور۔

امریکی صدر نے پھر دھمکی دی کہ کل رات 12 بجے تک ایران کا ہر پُل تباہ ہو جائے گا، کل رات 12 بجے تک ایران کا ہر پاور پلانٹ جل رہا ہوگا، میرے حکم کے 10 منٹ بعد ایران کا سب سے بڑا پل تباہ کر دیا گیا، کل جو ہم کریں گے تو ایران کو بحالی کے لیے امریکی ہنرمند بلانے پڑیں گے۔

انھوں نے نیٹو کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، کہا کہ نیٹو نے جو کیا میں کبھی نہیں بھول سکتا، نیٹو ایک پیپر ٹائیگر ہے، پیوٹن نیٹو سے نہیں ہم سے ڈرتا ہے، امریکی صدور نے کام کیا ہوتا تو کم جان اِن کے پاس نیوکلیر نہ ہوتا۔

قبل ازیں، امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیارکیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہیں تو جنگ سے ابھی نکل سکتے ہیں، لیکن میں اس جنگ کو انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آپ چاہیں اسے کچھ بھی کہیں میں اسے حکومتی تبدیلی کہتا ہوں۔ پہلی اور دوسری رجیم ختم کر دی گئی، تیسری سے بات ہو رہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ شدت پسند نہیں بلکہ زیادہ اسمارٹ ہیں۔ اگر ہم ایران کا نیوکلیر تباہ نہ کرتے تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا اور پورا مشرق وسطی پریشانی کا شکار ہو جاتا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو کوئی پل یا پاور پلانٹ نہیں بچے گا۔ میری چوائس پوچھیں تو میں ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ایرانی عوام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن انہیں کہا جاتا ہے کہ احتجاج کرو گے تو گولی مار دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایرانی عوام کے لیے بندوقیں بھیجی تھیں، لیکن جن لوگوں کے ذریعے ہم نے گنز بھجوائیں، انہوں نے خود رکھ لیے۔ میں ان لوگوں سے ناراض ہوں اور انہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جیسے ہی ایرانی عوام کے پاس ہتھیار پہنچیں گے، وہ لڑیں گے۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اطلاعات ہیں کہ 45 ہزار احتجاج کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس کچھ میزائل اور ڈرونز بچے ہیں اور ایک لکی شاٹ سے ہمارا جہاز گر گیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔ انہوں نے امریکی تجویز پر ایران کے ردعمل کو اہم قرار دیا، مگر کہا کہ یہ کافی نہیں ہے۔ انہیں ایران میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے متعلق خدشات کی کوئی فکر نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بندی کرنا چاہے گا کیونکہ ان کا خاتمہ ہو رہا ہے، تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کو کئی مواقع دیے جو انہوں نے ٹھکرادیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور جے ڈی وینس شامل ہیں، ہم نے رجیم کی تبدیلی کر لی ہے اور اب وہاں اعتدال پسند لوگ ہیں۔

ٹرمپ سے ان کے گزشتہ روز کے بیان میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر سوال بھی کیا گیا جس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا نکتہ نظر واضح کرنے کے لیے ایسا کیا، میرا خیال ہے آپ نے پہلے بھی ایسا سنا ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو امریکی شہری جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بے وقوف ہیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے