رکن قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا ایڈوائرر کونسل کی رکن ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ آج جو مشکل فیصلہ کیا یہ کوئی تمغہ لینے کےلیے نہیں کیا۔
کابینہ ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے رہائشی ہونے کے ناطے بات کروں گی، میں اور میرے بچے 2008ء میں آئی ڈی پیز کے طور پر اسلام آباد شفٹ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ میرے سسر پر 5 حملے ہوئے اور پانچویں میں وہ جانبر نہ ہوسکے، تمام قربانیوں کے باوجود ایسی حکومت ہم پر مسلط ہوگئی جسے فرق نہیں پڑتا تھا۔
ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ میں اپنی عوام کی قربانیوں کا بتاوں گی، شہیدوں کی بات کروں گی، خیبر پختونخوا میں 2013 کا تعلیمی سلیبس چل رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرے آبائی علاقے لکی مروت میں عورتیں باہر نہیں نکل سکتیں، بچے اسکول نہیں جاسکتے، آج جو مشکل فیصلہ کیا یہ کوئی تمغہ لینے کےلیے نہیں کیا۔
ثمر ہارون بلور نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا بھی چاہتا ہے باقی پاکستان کی طرح ترقی کرے، کے پی میں ایسی حکومت آئی جن کو ہمارا احساس نہیں تھا۔

