جمعہ, جولائی 31, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، ڈی جی...

بلوچستان کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی مسئلے پر پہنچنا ہے، صوبے کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، جو کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں اور اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے بھی لیویز فورس چاہیے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گروں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں اور ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگلنگ کرتے ہیں، سردار چاہتے ہیں 1000 ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے، سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردار ہوں، انہیں مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا جبکہ بلوچستان کے عوام ہی اصل میں صوبے کے اسٹیک ہولڈرز ہیں، یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 بالکل واضح کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون سب کے لیے یکساں ہے، آئین و قانون کے مطابق سب معاملات کو دیکھنا ہوگا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!