کوئٹہ:پارلیمانی سیکرٹری برائے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پرنس آغا عمر احمدزئی،سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ظفر بلیدی، یو این ڈی پی کے ذؤالفقار درانی،ڈاکٹر عطاء الرحمن،،یو این ایف پی ا ے کی سعدیہ عطاء، ذوالقراء درانی، امبرین مینگل، ڈپٹی ڈائریکٹر پاپولیشن ناصر خان عطاء الرحمن خلجی نے کہا ہے کہ آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ ہر فرد کو مساوی مواقع فراہم کئے جائیں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لایا جائے، عالمی یومِ آبادی کو منانے کا مقصد آبادی سے متعلق چیلنجز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، پائیدار ترقی کے حصول کے لئے کوششوں کو فروغ دینا اور بہتر مستقبل کے لئے اجتماعی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے،محکمہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ شادی شدہ جوڑوں کو فیملی پلاننگ کے بارے میں رہنمائی کررہا ہے اورانہیں فیملی پلاننگ کیلئے استعمال ہونے والی اشیاء کی مفت فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو محکمہ پاپولیشن ویلفیئر اور یو این ایف پی اے کے زیراہتمام عالمی یوم آبادی کے موقع پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی نے بھی شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی منانے کا آغاز 1989ء میں اقوامِ متحدہ نے کیا تھا اس دن کا مقصد آبادی سے متعلق مسائل، تولیدی صحت، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق، خاندانی منصوبہ بندی، معیاری صحت و تعلیم اور پائیدار ترقی کے حوالے سے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا ہے رواں برس بھی اقوامِ متحدہ نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں اپنے مستقبل سے متعلق آزادانہ فیصلے کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو محض ایک مسئلہ سمجھنے کے بجائے تعلیم، مہارت اور بہتر صحت کی سہولیات کے ذریعے قومی ترقی کی طاقت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان دنیا کے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل ہے، جہاں حالیہ مردم شماری کے مطابق آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث صحت، تعلیم، روزگار، رہائش، صاف پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مستقبل کی خوشحالی کا انحصار آبادی میں اضافے کو مؤثر منصوبہ بندی، انسانی ترقی، معیاری تعلیم، بہتر صحت اور مساوی مواقع کے ذریعے قومی طاقت میں تبدیل کرنے پر ہے۔انہوں نے اس سال کے موضوع “نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل کیلئے حقیقت کا روپ دینا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، انہیں معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات، ہنر مندی کے مواقع اور باعزت روزگار کی فراہمی کے ذریعے ملک کی ترقی میں موثر شراکت دار بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو ملک کے محدود وسائل، تعلیمی و طبی سہولیات، روزگار کے مواقع اور بنیادی خدمات پر اضافی دبا کا باعث بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے دور رس پالیسیوں، موثر اقدامات اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے تاکہ آبادی کو ملک کی ترقی کے لئے ایک مثبت قوت بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، میڈیا، علما کرام اور سکالرز کو آبادی میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے کے لئے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لئے موثر کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متوازن آبادی ملکی ترقی، معاشی استحکام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے خوراک، روزگار، صحت، تعلیم، رہائش، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ماہرین کے مطابق آبادی میں تیز رفتار اضافے کے ساتھ وسائل میں متوازن اضافہ نہ ہونے کی صورت میں معاشی اور سماجی دباؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

