Tuesday, July 14, 2026
Homeاہم خبریںبین الاقوامی خبریںمتحدہ عرب امارات کا دبئی پرانحصارکم کرنے اور آبنائے ہرمز سے بچنےکیلئے...

متحدہ عرب امارات کا دبئی پرانحصارکم کرنے اور آبنائے ہرمز سے بچنےکیلئے نئی بندرگاہ بنانےکا منصوبہ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دبئی پر انحصارکم کرنے اور آبنائے ہرمز سے بچنےکے لیے نئی بندرگاہ بنانےکا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دبئی پورٹ کا انتظام سنبھالنے والی اماراتی کمپنی ڈی پی ورلڈ مشرقی ساحل پر اماراتی ریاست فجیرہ میں ایک نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اماراتی کمپنی نئی بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ فجیرہ کی موجودہ بندرگاہ میں ایک نیا کنٹینر ٹرمینل بنانے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔

اس اقدام کا مقصد دبئی کی بندرگاہ جبل علی پر انحصار کم کرنا اور آبنائے ہرمز کے راستے سے بچنےکا متبادل پیدا کرنا ہے، جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں کے باعث بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کی اس وسیع حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت وہ اپنی معیشت کو ایران کے ساتھ مستقبل میں ممکنہ کشیدگی کے اثرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے کنٹینرز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں داخل یا باہر جاسکیں گے۔

امریکا، اسرائیل، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 3 ہزار ڈرونز یا میزائل داغ ہیں، جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

معاملے سے واقف افراد کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد سے دبئی کی جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں میں 90 سے 95 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے اماراتی کمپنی کو متبادل راستہ تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اماراتی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال کے اندر مکمل کی جاسکتی ہے۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی ساحل کی جانب توجہ منتقل کرنےکا مطلب یہ نہیں کہ جبل علی پورٹ کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائےگا۔

ابوظبی اپنا کچھ خام تیل فجیرہ کے راستے برآمد کرتا ہے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے وہاں سے تیل کی برآمدات بڑھانےکے منصوبے بھی رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ خطے میں جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 135 بحری جہاز گزرتے تھے، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد راستہ مختصر مدت کے لیے دوبارہ کھولے جانے کے باوجود روزانہ آمدورفت 40 جہازوں سے زیادہ نہیں ہوسکی۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے