منگل, جولائی 14, 2026
ہوماہم خبریںمولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا...

مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟ جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کس بات پر معافی مانگیں، معافی تو ہو مانگیں جنہوں نے لشکر بنانے کا کہا ہے۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے اس سوال پر کہ محمود اچکزئی کے بعد کیا مولانا فضل الرحمان پر بھی ایف آئی آر ہوگی، جواب میں کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟۔ 

اپنی بات کو جاری رکھتے پوئے ان کا کہنا تھا کہ معافی کا مطالبہ تو اس بات پر کیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنا لیں اور لوگوں کا خود مقابلہ کریں، معافی تو ان کو مانگی چاہیے نہ کہ مولانا کو۔

جے یو آئی سینیٹر نے کہا کہ جو کچھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہو رہا ہے، اس کے اوپر معافی مانگی چاہییے کہ گورننس کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔ 

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا جب پنجاب میں جا کر یہ بات کہتے ہیں کہ میرے صوبے میں اور بلوچستان میں حالات اس حد تک چلے گئے اور خراب ہوگئے ہیں اور ہمیں یہ کہا جا رہا ہے، ہمیں اگر ڈائریکٹ نہیں کہا تو کسی اور کو یہ ڈائریکٹ کہا جا رہا ہے کہ  آپ ان کے مقابلے کے لیے لشکر تشکیل دیں، تو کیا یہ کہا جانا مناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر مولانا کو معافی مانگی چاہیے یا ان لوگوں کو معافی مانگنی چاہیے جنہوں نے یہ حرکت کی۔

قبل ازیں وفاقی وزیر احسن اقبال نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نا انصافی ہے، یہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاریاپنے ایک بیان میں انہوں نے سربراہ جے یو آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’‏مولانا صاحب! ‏آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
‏آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا‘۔ 

’اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ‏ہمارے فوجی جوان اور افسر محض ایک پیشہ انجام نہیں دیتے، بلکہ وہ ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کے دفاع کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ آج ہم اپنے گھروں میں، مساجد میں، مدارس میں اور جلسوں میں امن کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہ سپاہی ہے جو سرحد پر، دہشت گردی کے خلاف محاذ پر اور ہر خطرناک مقام پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے کھڑا ہے‘۔

’‏وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگلا لمحہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ہو سکتا ہے، اس خوف سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے ہیں کہ ان کی شہادت ان کی بیوی کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور بوڑھے والدین کو سہارے سے محروم کر دے گی۔ ایسی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نہ انصاف ہے، نہ اخلاق کے تقاضوں کے مطابق، اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔
‏قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
‏“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔”
‏(سورۃ آل عمران: 169)
‏رسول اللہ ﷺ نے شہادت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
‏“مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔”
‏(صحیح بخاری)

’‏یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔‘

’‏شہداء ہی قوموں کی عزت، آزادی اور وقار کے محافظ ہوتے ہیں۔ انہی کی قربانیاں قوموں کو سربلندی عطا کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو امن اور آزادی کا مستقبل دیتی ہیں۔ ہم سب پر ان کا ایسا قرض ہے جو کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ ان کے احسان کا اعتراف کرنا، ان کی قربانی کا احترام کرنا اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔‘ 

’‏اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔ شہداء کا احترام درحقیقت پاکستان کے احترام، ہماری آزادی کے احترام اور ان اسلامی اقدار کے احترام کا تقاضا ہے جن کی بنیاد ایثار، قربانی اور وفاداری پر قائم ہے‘۔

ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و عوامی امور،سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نےشہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ شہادت مقصود و مطلوب مومن ہے۔ یہ اس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ راز ہم دنیا داروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ رانا ثناء اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی شہداء کے ورثا اور غازیوں کو صبر جمیل اور یقین محکم کی دولت سے مالا مال رکھے کہ یہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔ آمین۔

ان کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، یہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے۔ 

دوسری جانب وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کے بیان پر ان سے شہداء کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بھی ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کی۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے