بدھ, جولائی 8, 2026
ہوماہم خبریںپاکستان ریلویز کی 31 حادثات کی انکوائریاں التوا کا شکار، ذمہ داروں...

پاکستان ریلویز کی 31 حادثات کی انکوائریاں التوا کا شکار، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی

لاہور: 

پاکستان ریلویز نہ صرف حادثات روکنے میں ناکام رہا بلکہ ان حادثات کی انکوائریاں بھی بروقت مکمل نہ کر سکا۔ اگر بعض انکوائریاں مکمل بھی ہوئیں تو ان پر اعلیٰ افسران نے مختلف اعتراضات لگا کر متعلقہ افسران کو بچانے کی کوشش کی، جبکہ قوانین کے مطابق غفلت اور لاپروائی کے مرتکب افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔

ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 سے لے کر 10 جون 2026 تک مجموعی طور پر 31 سے زائد مسافر اور مال بردار ٹرینیں ڈی ریلمنٹ، تصادم، کھڑی گاڑیوں اور ان کے پاور پلانٹ وین میں آگ لگنے جیسے حادثات کا شکار ہوئیں۔

ان حادثات کی ابتدائی تحقیقات کے بعد فیڈرل انویسٹی گیشن آفیسر کی نگرانی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مسافروں اور ریلوے ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، شواہد اکٹھے کیے اور تفصیلی رپورٹس تیار کر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز، چیئرمین ریلوے اور وفاقی وزیر ریلوے کو ارسال کیں۔

تاہم، ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان انکوائریوں میں غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ریلوے ذرائع کے مطابق رواں سال کے علاوہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات کی انکوائریاں بھی مکمل ہو چکی ہیں، مگر ان میں سے بیشتر پر اعتراضات لگا کر دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ دوبارہ انکوائریاں مکمل ہونے کے باوجود بھی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔

دستاویزات کے مطابق مئی 2025 سے 10 جون 2026 تک کراچی ڈویژن میں پیش آنے والے حادثات کی 12، سکھر ڈویژن کی 11، لاہور ڈویژن کی 2، راولپنڈی ڈویژن کی 4 جبکہ پشاور اور کوئٹہ ڈویژن کی ایک، ایک انکوائری تاحال التوا کا شکار ہے۔

تحقیقاتی ٹیموں نے اپنی رپورٹس میں حادثات کی متعدد وجوہات کی نشاندہی کی ہے، جن میں عوام کی جانب سے پھاٹک موجود ہونے کے باوجود ریلوے کراسنگ عبور کرنا، رولنگ اسٹاک (بوگیوں اور دیگر ریلوے آلات) کا ناقص اور خستہ حال ہونا، ریلوے انفراسٹرکچر کی بوسیدہ حالت، بجٹ میں ناکافی فنڈز، ریلوے ٹریک اور دیگر تنصیبات کے اطراف رہائشی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، ملازمین کی نااہلی، بدانتظامی، روایتی غفلت اور دہشت گردی کے واقعات شامل ہیں۔

اس حوالے سے جب ترجمان وزارت ریلوے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’انکوائریاں ابھی جاری ہیں، جیسے ہی مکمل ہوں گی، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔‘‘

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے