محکمہ صحت بلوچستان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی پر 23 ڈاکٹروں کو معطل جبکہ 25 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند کے مطابق معزز عدلیہ کے احکامات کے تحت انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال اور بندش غیر قانونی اقدامات ہیں، اس لیے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی پروگرام سے وابستہ 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی رجسٹریشن بھی معطل کر دی گئی ہے اور ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری صحت کے ادارے کھلے رہیں گے، جبکہ لازمی سروسز سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سینیئر ڈاکٹرز کی تجویز پر صحت کے اداروں میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس میں صوبائی حکومت کے افسران، سینیئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے۔
معاون وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی جانوں سے وابستہ ہے، لہٰذا عوامی مفاد کے خلاف کسی اقدام یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت بلوچستان تمام سرکاری طبی اداروں میں بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو یقینی بنا رہی ہے۔
شاہد رند کے مطابق ڈاکٹر برادری کے جائز مسائل کے حل اور صحت کے نظام کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم قانون اور سروس رولز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، احتساب اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

