پیر, اکتوبر 26, 2026
ہومکالمبلوچستان میں کم عمری کی شادیاں قانون، معاشرتی رویے اور مستقبل کے...

بلوچستان میں کم عمری کی شادیاں قانون، معاشرتی رویے اور مستقبل کے تقاضے

تحریر صدیق بلوچ

دنیا بھر میں کم عمری کی شادی کے اسباب عوامل اور تدارک کے لیے آوازیں اٹھنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر قانون سازی اور مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں
لیکن بدقسمتی سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی کم عمری کی شادیاں بدستور جاری ہیں

بلوچستان کے وسیع و عریض جغرافیے دور دراز علاقوں میں آباد آبادیوں اور متنوع قبائلی و سماجی روایات کے تناظر میں کم عمری کی شادی ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے
اس کے اثرات محض کسی ایک لڑکی یا لڑکے کی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم صحت خاندانی استحکام اور معاشرے کی مجموعی ترقی پر بھی مرتب ہوتے ہیں
اس مسئلے کو کسی ایک قبیلے علاقے یا خاندان سے منسوب کرنے کے بجائے اس کے پس پردہ عوامل کو سمجھنا ضروری ہے جن میں غربت ناخواندگی سماجی دباؤ تعلیمی سہولیات کی کمی اور فرسودہ معاشرتی تصورات سمیت متعدد وجوہات شامل ہیں
تاہم ان عوامل کے درمیان والدین کی سوچ اور فیصلے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں بعض والدین بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے مستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اسے ایک ذمہ داری یا بوجھ سمجھتے ہوئے کم عمری میں اس کی شادی کو مسئلے کا حل تصور کرنے لگتے ہیں معاشی مشکلات اور معاشرتی دباؤ کے باعث کیے جانے والے ایسے فیصلے بعض اوقات بچیوں کو ایسے حالات سے دوچار کر دیتے ہیں جن کے نتائج ان کی پوری زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں
یونیسیف کے مطابق کم عمری کی شادیوں میں کمی تو آرہی ہے لیکن جنوبی ایشیاء کی لڑکیوں کو سب سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے

کونجاں بی بی جس کی شادی وٹہ سٹہ کے رسم کے تحت کم عمری میں ہوئی وہ کہتی ہیں کہ میری شادی کم عمری ہی میں وٹہ سٹہ جیسی رسم کے تحت ایک بڑی عمر کے مرد سے کر دی گئی
اُس عمر میں جب مجھے زندگی کے معنی بھی پوری طرح معلوم نہ تھے
میں نے بچپن کی دہلیز سے نکلتے ہی ایک ایسی زندگی میں قدم رکھ دیا جہاں میری خواہشوں میرے جذبات اور میری خوشیوں کی کوئی اہمیت نہ تھی
کم عمری کی شادی اور طبی مسائل کی وجہ سے میری گود بار بار اُجڑتی رہی ماسوائے ایک بچے کےاس بناء پر میرے شوہر نے دوسری شادی کی
یوں میری قسمت میں سوتن کا دکھ اپنوں کی بے حسی امتیازی سلوک اور ہر روز ایک نئی اذیت لکھ دی گئی میں خاموشی سے سب سہتی رہی
آج بھی میرے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر میرا قصور کیا تھا؟
کیا کم عمری میں بیاہ دیا جانا میرا جرم تھا؟
کونجاں چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی کا درد کسی اور بچی کا مقدر نہ ہو اسلیے وہ تمام والدین سے کہتی ہیں کہ اپنی بچیوں کو کم عمری کی شادی اور وٹہ سٹہ جیسی رسموں کی بھینٹ نہ چڑھائیں بیٹیوں کو رشتوں کے بدلے رشتوں میں مت جھونکیں وہ کوئی سودا نہیں جیتے جاگتے انسان ہیں

حکومت بلوچستان اور یونیسف کے سروے (2019–20) کے مطابق بلوچستان میں 21.9 فیصد خواتین کی شادی 18 سال سے پہلے اور 7.2 فیصد کی شادی 15 سال سے پہلے ہوئی مردم شماری 2023 کے مطابق 15 سے 17 سال کے بچوں میں 12 فیصد شادی شدہ، بیوہ، طلاق یافتہ یا علیحدہ درج تھے چائلڈ پروٹیکشن کے تحت کم عمری کی شادیوں کے تازہ ترین جامع صوبائی اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم بلوچستان میں نومبر 2025 میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے نومبر 2025ء میں بلوچستان چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ منظور ہوئی
فضل خان اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں وہ بتاتے ہیں کہ بیٹے کی خواہش میں ان کے ہاں پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں لیکن محدود آمدنی مستقل روزگار کی عدم دستیابی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی زندگی کو مسلسل آزمائش میں مبتلا کیے رکھا گھر کے اخراجات پورے کرنا بچیوں کے لیے خوراک اور لباس کا انتظام کرنا ان کی تعلیم کا بندوبست کرنا اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا معاشی وسائل کی کمی کے باعث وہ اپنی بچیوں کو وہ سہولیات اور بہتر مستقبل فراہم نہ کر سکے جس کی خواہش ہر والد اپنے بچوں کے لیے رکھتا ہے


ان کا کہنا ہے کہ معاشی مجبوریوں اور معاشرتی دباؤ کے باعث وہ اب تک اپنی تین بیٹیوں کی شادی کر چکے
لیکن ان کی زندگی کا سب سے المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی ایک بیٹی کم عمری میں شادی کے بعد دوران زچگی انتقال کر گئی
اپنی بیٹی کو کھونے کا دکھ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بچی کی زندگی اس طرح ختم ہو جائے
آج وہ اپنی باقی دو بیٹیوں کو کم عمری کی شادی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں
لیکن اس خواہش کے ساتھ ہی انہیں غربت بے روزگاری اور محدود وسائل کی تلخ حقیقت اور اپنی معاشی مجبوریوں اور رویوں کا بھی سامنا ہے
جس بناء پر انہیں خدشہ ہے کہ شاید حالات کی بے رحم گردش انہیں اپنی باقی بیٹیوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دے
جس سے وہ خود بچنا چاہتے ہیں
سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے میر احمد بلوچ کے مطابق دیہی اور قبائلی علاقوں میں کم عمری کی شادیاں بلاامتیاز ہر طبقے میں رائج ہیں اگرچہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث اس رجحان میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آ رہی ہے تاہم اس سماجی مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید مؤثر اقدامات اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے
ان کے مطابق اس سلسلے میں سب سے اہم قدم حکومتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کی جا سکے اور بچوں کے بہتر مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے
ان علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے ڈاکٹر نسرین کے مطابق دیہی اور قبائلی معاشروں میں غربت کے باعث اکثر بچیاں کم عمری ہی سے غذائی قلت اور خون کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں مناسب غذا اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی ان کی صحت کو مزید متاثر کرتی ہے ایسے حالات میں کم عمری میں شادی اور اس کے نتیجے میں کم عمری میں حمل ٹھہرنے سے ان کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں ان مسائل کا ایک واضح ثبوت ان علاقوں میں زچہ و بچہ کی بڑھتی ہوئی شرحِ اموات ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچیوں کی صحت غذائیت اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے
قبائلی رہنما علی شیر کے مطابق قبائلی معاشروں میں بعض اوقات ملکی قوانین کے مقابلے میں مقامی روایات رسم و رواج اور جرگوں کے فیصلوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے
تاہم اس حقیقت کو تمام قبائلی یا دیہی معاشروں پر لاگو کرنا درست نہیں کیونکہ مختلف علاقوں میں آباد قبائل اور خاندانوں کی روایات سماجی اقدار اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں


اس لیے یہ تاثر قائم کرنا بھی مناسب نہیں کہ تمام قبائلی یا دیہی خاندان کم عمری کی شادی کی حمایت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں قبائلی تنازعات خاندانی دشمنیوں اور دیرینہ اختلافات کے خاتمے کے لیے بعض علاقوں میں کم عمر بچیوں کی شادیاں بڑی عمر کے مردوں سے کروا دی جاتی تھیں اس عمل کو بعض اوقات دشمنی ختم کرنے خاندانوں کے درمیان صلح کروانے یا تنازعات کا تصفیہ کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان ان کم عمر بچیوں کو اٹھانا پڑتا تھا جن کی زندگی کے اہم فیصلے ان کی مرضی عمر اور مستقبل کو نظرانداز کرکے کیے جاتے تھے نتیجتاً بہت سی بچیاں ذہنی دباؤ جسمانی مشکلات تعلیم سے محرومی اور ازدواجی زندگی کے مختلف مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتی تھیں
ان کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات عوامی شعور میں اضافے ملکی قوانین کی آگاہی اور سماجی سطح پر ہونے والی کوششوں کے باعث یہ رسم ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے


مختلف میڈیا یا آرگنائزیشن میں خدمات سرانجام دینے والے معصوم بلوچ کے مطابق بلوچستان کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیاں آج بھی سنگین سماجی مسئلے کے طور پر موجود ہے
لیکن مقامی صحافیوں کے جانب سے کم عمری کی شادی کی نشاندہی اور خبریں سامنے لانے اور حکومتی مشینری کے حرکت میں آنے کے بعد کم عمری کی شادی کرنے اور کروانے والوں پر خاطر خواہ اثر تو نہیں پڑتا
لیکن خبر منظر عام پر لانے والے صحافیوں کو متعلقہ خاندانوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
جس بناء پر میڈیا سے منسلک افراد کم عمری کی شادی کے واقعات کو رپورٹ کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں وجس کی باعث کم عمری کی شادیوں کے واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے
اور مسئلے کی سنگینی بغی پوری طرح اجاگر ہو نہیں ہوتی
وہ سمجھتے ہیں کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تاکہ کم عمری کی شادیوں کے عمل کی حوصلہ شکنی ہوسکے
پاکستان اکنامک سروے 2024–25 میں شائع شدہ مردم شماری 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں خواتین کی شرح خواندگی 32.8 فیصد ہے جو پاکستان کے چاروں صوبوں میں سب سے کم ہے
جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ Girls’ Education in Pakistan: Statistics & Trends 2022–23کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 17.7 لاکھ بچیاں اسکول سے باہر تھیں جو متعلقہ عمر کے گروپ کی بچیوں کا 75.4 فیصد بنتا ہے

یہ اعداد و شمار بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم تک رسائی اور خواتین کی خواندگی کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کی نشان دہی کرتے ہیں
دیہی و قبائلی علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم محمد رضا کے کا کہنا ہے کہ دین اسلام بھی علم کے حصول کی ترغیب دیتا ہے تعلیم یافتہ خواتین خاندان کی بہتر تربیت معاشی خودمختاری اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
ان کے مطابق صوبائی حکومت کی تعلیمی کوششیں قابل ستائش ہیں تاہم لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح تعلیم اب بھی کم ہے بالخصوص پرائمری مڈل اور ہائی اسکول کی سطح پر کم عمری کی شادیاں بہت سی بچیوں کی تعلیم ادھوری چھوڑنے کا سبب بنتی ہیں
ہماری کوشیش ہے کہ ان معاشروں میں بسنے والے لوگ بچیوں کی تعلیم کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھیں کیونکہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتی بلکہ ایک باشعور خاندان اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی رکھتی ہے

ہم سمجھتے ہیں کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں
میڈیا سماجی تنظیموں قبائلی عمائدین اور مقامی برادریوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے
اس مقصد کے لیے مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے
تاکہ کم عمری کی شادیوں کے منفی اثرات سے متعلق آگاہی عام کی جا سکے اور اس عمل کی حوصلہ شکنی ہو

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!