منگل, ستمبر 15, 2026
ہوماہم خبریںعمران خان کو نجی اسپتال کی سہولت؛ آئینی عدالت میں سپریم کورٹ...

عمران خان کو نجی اسپتال کی سہولت؛ آئینی عدالت میں سپریم کورٹ سمیت ملک بھر سے ریکارڈ طلب

اسلام آباد: 

وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور 3 قیدیوں کو نجی اسپتال میں سہولیات دینے کے معاملے پر سپریم کورٹ سمیت ملک بھر کی عدالتوں سے اس نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا تھا، تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے ۔ آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، جبکہ ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ابھی عبوری ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔

بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی کے معاملے پر سپریم کورٹ سے ریکارڈ منگوا لیا، جبکہ ملک بھر کی عدالتوں سے بھی اس نوعیت کے تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی کیس زیر التوا ہو تو اس کا ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت کو بھجوایا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ یہ کیس سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے نتیجے میں ہائیکورٹ اور پھر وفاقی آئینی عدالت میں آیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!