اسلام آباد/کو ئٹہ (آ ئی این پی) سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے عالمی یومِ نوجوانان 2026ءکے موقع پر اپنے نوجوانوں کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ، سب سے بڑی امید اور روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی یافتہ، مضبوط اور خوشحال پاکستان کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو محض مستقبل کے وارث سمجھنے کے بجائے آج ہی قومی ترقی کے عمل میں مو¿ثر شراکت دار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان کسی سے کم نہیں، انہیں صرف مواقع، درست سمت اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، ادب، فنون، کاروبار، صحافت، سفارت کاری اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے لیے جامع، مو¿ثر اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قومی یوتھ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسی پالیسی ہونی چاہیے جو صرف اعلانات تک محدود نہ ہو بلکہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار، کاروبار، ٹیکنالوجی، تحقیق اور قیادت کے حقیقی مواقع فراہم کرے۔ نوجوانوں کی ضروریات کو پالیسی سازی کے مرکز میں رکھنا ہوگا تاکہ انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بھی مو¿ثر آواز حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں صرف ڈگری نہیں، ہنر اور مواقع بھی ہونے چاہئیں۔ جدید دور میں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اسکلز، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، ای کامرس، گرین ٹیکنالوجی اور جدید کاروباری مہارتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نوجوان ملازمت کے متلاشی ہی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے زور دیا کہ ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی وہی مواقع ملنے چاہئیں جو بڑے شہروں کے نوجوانوں کو حاصل ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے ہر صوبے، ہر ضلع اور ہر علاقے کے نوجوان میں صلاحیت موجود ہے، فرق صرف مواقع اور سہولیات کا ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید تربیت، انٹرنیٹ، کھیلوں کی سہولیات، اسکالرشپس اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تو یہی نوجوان پاکستان کی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا محض ایک سیاسی یا حکومتی ضرورت نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل کا بنیادی تقاضا ہے۔ ہمیں نوجوانوں کے لیے فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں بھی شامل کرنا ہوگا۔ پارلیمان، پالیسی سازی، بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر قومی فورمز پر نوجوانوں کی بامعنی نمائندگی کو فروغ دینا چاہیے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان کی باگ ڈور بالآخر نوجوان نسل نے ہی سنبھالنی ہے۔ آج کے نوجوان کل کے قائد، پالیسی ساز، سائنس دان، اساتذہ، سفارت کار، کاروباری رہنما اور قومی اداروں کے سربراہ ہوں گے۔ اس لیے نوجوانوں کی تربیت، کردار سازی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا دراصل پاکستان کے مستقبل کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کے سافٹ امیج کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کھیل، ثقافت، تعلیم، ٹیکنالوجی، فنون، سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، مثبت سوچ اور تخلیقی کردار کے ذریعے دنیا کو پاکستان کا ایک روشن، پرامن، باصلاحیت اور ترقی پسند چہرہ دکھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا ڈیجیٹل رابطوں کا عالمی گاو¿ں بن چکی ہے اور پاکستانی نوجوان اس میدان میں پاکستان کے غیر رسمی سفیر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک باصلاحیت پاکستانی نوجوان کی کامیابی صرف اس کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنے چاہئیں جہاں وہ اپنی صلاحیت دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بھی قومی ترقی کے عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ نوجوان خواتین کو تعلیم، ہنر، کاروبار، قیادت اور فیصلہ سازی کے مواقع دے کر ہم پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے بروئے کار لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کے بجائے انہیں امید، اعتماد اور مواقع دینا ہوں گے۔ نوجوانوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ان کا مستقبل ہے، بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان آج بھی ان کا ہے اور ملک کی تعمیر میں ان کا کردار آج سے شروع ہوتا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا دراصل پاکستان کے مستقبل کو نظر انداز کرنا ہے۔ حکومت، پارلیمان، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو مل کر نوجوانوں کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی تاکہ ملک کی نوجوان آبادی کو ایک مضبوط انسانی سرمائے میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی کیونکہ نوجوانوں پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم دیں گے تو قوم باشعور ہوگی، ہنر دیں گے تو معیشت مضبوط ہوگی، مواقع دیں گے تو روزگار پیدا ہوگا اور قیادت کے مواقع دیں گے تو پاکستان کا مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہوگا۔ انہوں نے عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر ملک بھر کے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، تعلیم اور ہنر کو اپنا ہتھیار بنائیں، مثبت سوچ کو اپنائیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

