اتوار, اگست 2, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںخاران حملے کے بعد بلوچستان بھر میں ہائی الرٹ، کوئٹہ سمیت تمام...

خاران حملے کے بعد بلوچستان بھر میں ہائی الرٹ، کوئٹہ سمیت تمام اضلاع میں سیکیورٹی انتہائی سخت

حساس تنصیبات کی حفاظت میں اضافہ، شہریوں سے شناختی دستاویزات ساتھ رکھنے اور تعاون کی اپیل
کوئٹہ( یو این اے) ضلع خاران میں پیش آنے والے مبینہ مسلح حملے کے بعد بلوچستان بھر میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ہنگامی الرٹ میں تمام اضلاع کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر اپنی اپنی جائے تعیناتی پر پہنچنے، حساس تنصیبات کی حفاظت مزید سخت کرنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی اقدامات غیر معمولی حد تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اہم شاہراہوں، حساس مقامات اور سرکاری عمارتوں کے اطراف پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے ہنگامی الرٹ کے مطابق بلوچستان صوبائی اسمبلی، بلوچستان سول سیکرٹریٹ، وزیراعلی سیکرٹریٹ، گورنر ہاس، آئی جی پولیس بلوچستان آفس، سی سی پی او آفس، پولیس ہیڈکوارٹر، ایف سی ہیڈکوارٹر، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی دفاتر، اسپیشل برانچ، سیکیورٹی ونگ، ریڈ زون، حساس سرکاری دفاتر، عدالتوں، سرکاری تنصیبات، مواصلاتی مراکز، بجلی و گیس کی تنصیبات، ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشن اور دیگر اہم قومی اثاثوں کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے یو این اے کے مطابق تمام پولیس اسٹیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ نفری میں اضافہ کیا جائے، تھانوں کی داخلی و خارجی نگرانی کو مثر بنایا جائے، گشت کے نظام میں اضافہ کیا جائے اور تمام اہلکار مکمل اسلحہ، حفاظتی جیکٹس، ہیلمٹس اور ضروری آلات کے ساتھ ہر وقت الرٹ رہیں پولیس حکام نے تمام ضلعی پولیس افسران، ایس ایس پیز، ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کریں، موبائل اور پیدل گشت میں اضافہ کریں، مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع اعلی حکام کو فراہم کریں یو این اے کے مطابق کہ فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان کانسٹیبلری، لیویز فورس، انسداد دہشت گردی فورس(اے ٹی ایف)، کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطوں کو بھی مزید مثر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری اور مشترکہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے ریڈ زون، سول سیکرٹریٹ، صوبائی اسمبلی، اہم سرکاری دفاتر، سفارتی تنصیبات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، تجارتی مراکز اور دیگر حساس مقامات پر چیکنگ کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ گاڑیوں اور مشتبہ افراد کی تلاشی کا عمل بھی بڑھا دیا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ تمام پولیس لائنز، ریزرو فورس اور کوئیک رسپانس یونٹس کو بھی ہائی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری طور پر کارروائی کی جا سکے۔ اسی طرح حساس اضلاع میں اضافی نفری کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہےشہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے حتی الامکان گریز کریں، دوران سفر شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھیں، سیکیورٹی چیکنگ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک شخص، گاڑی یا سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس، ایف سی یا متعلقہ اداروں کو دیں حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی اقدامات عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے ہیں۔ شہریوں سے افواہوں پر کان نہ دھرنے، غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے جبکہ کوئٹا شہر کے داخلی و خارجی راستہ سمیت کوئٹہ شہر کے مختلف بازار کی شراہوں پر ایک سی کی باری نفری تعینات ہے جبکہ پولیس اہلکار اور ایف سی میں ناکے لگا کے اسنیپ چیکنگ شروع کر دی ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!