معروف صنعت کار عارف حبیب نے بجٹ میں لیےگئے اقدامات سے سرمایہ کاری میں اضافہ انتہائی مشکل قرار دے دیا۔
شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں جیونیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن "کرڈالو، آخری موقع” میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صنعت کار عارف حبیب نےکہا کہ ٹیکس ریٹ اب بھی زیادہ ہے، سپر ٹیکس ختم کرنےکا مطالبہ تھا لیکن اس میں صرف 2 فیصد کمی کی گئی، ایسے میں سرمایہ کاری کیوں آئےگی؟
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ جب تک پیداواری لاگت کم نہیں ہوگی ایکسپورٹ پر ٹیکس کمی کا فائدہ نہیں، مجھے نہیں لگتا حکومت کے اقدامات سے چیزیں ٹھیک ہوں گی،توانائی کی قیمتیں زیادہ ہیں تو ملک میں سرمایہ کاری کیوں آئےگی، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی، روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، مجھے نہیں لگتا کہ حکومتی اقدامات سے سرمایہ کاری شروع ہوجائےگی۔
صنعت کار محمد علی ٹبہ نے کہا کہ بجٹ سے صنعتوں کو فائدہ ہوگا، حل یہ ہے کہ خسارا ختم کرکے آمدنی بڑھائی جائے ، ایکسپورٹ سیکٹر کو مزید مراعات دینے کی ضرورت ہے تاکہ آمدنی بڑھے۔
محمد علی ٹبہ نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ غریب عوام کے لیے بڑا نقصان ہے، اقدامات کرنے سے پہلے مسائل سمجھنے کی ضرورت ہے، سرمایہ کاری نہ ہونےکی وجہ یہاں پالیسی کا مسئلہ ہے، جو چیزہم ایکسپورٹ کرسکتے ہیں کرنی چاہیے، سستی چیزکو بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔
پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلف منیر نے بجٹ کی ڈائریکشن درست قرار دیتے ہوئےکہا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار کے لیے اعتماد سازی بہت ضروری ہے۔

