منگل, اگست 18, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان ہائی کورٹ کا عدالتی آزادی کے تحفظ کیلئے ماتحت عدالتوں کے...

بلوچستان ہائی کورٹ کا عدالتی آزادی کے تحفظ کیلئے ماتحت عدالتوں کے جوڈیشل افسران کو سخت ہدایات جاری

کوئٹہ :بلوچستان ہائی کورٹ نے عدالتی آزادی کے تحفظ، عدالتی کارروائیوں میں بیرونی اثر و رسوخ کی روک تھام اور جوڈیشل افسران کی غیر جانب داری یقینی بنانے کے لیے تمام ماتحت عدالتوں کے جوڈیشل افسران کو سخت ہدایات جاری کر دیں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر جاری ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام جوڈیشل افسران اپنے فرائض قانون کے مطابق آزادانہ، غیر جانب دارانہ، دیانت داری اور کسی بھی بیرونی دبا، سفارش، اثر و رسوخ، لالچ یا مداخلت سے بالاتر ہو کر انجام دیں گے۔ہدایت نامے کے مطابق کسی بھی شخص، خواہ اس کا عہدہ، حیثیت یا اثر و رسوخ کچھ بھی ہو، کو عدالتی کارروائی، حکم، فیصلے، ضمانت، کیس مینجمنٹ، فہرست سازی، مقدمے کی منتقلی یا کسی دیگر عدالتی و انتظامی معاملے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔جوڈیشل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی فرد، وکیل، قانونی برادری کے عہدیدار، سرکاری افسر، آئینی یا قانونی ادارے کے رکن، حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج، ہائی کورٹ کے افسر یا اہلکار سمیت کسی بھی شخص کی جانب سے کی جانے والی سفارش، درخواست، دبا یا مداخلت کو قبول یا زیرِ غور نہ لایا جائے، خواہ رابطہ ذاتی طور پر، ٹیلی فون، الیکٹرانک ذرائع یا کسی ثالث کے ذریعے کیا گیا ہو۔ہدایت نامے میں خاص طور پر واضح کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس، ہائی کورٹ کے کسی جج یا کسی مجاز اتھارٹی کی حمایت یا سفارش کا دعوی کرنے والے کسی شخص کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی غیر رسمی رابطہ یا سفارش قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ کسی بھی معاملے میں صرف مقررہ سرکاری طریقہ کار اور قانونی چینل کے ذریعے موصول ہونے والی ہدایات ہی زیرِ غور لائی جائیں گی۔تمام جوڈیشل افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ عدالتی یا انتظامی امور میں غیر قانونی یا بیرونی اثر و رسوخ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی فوری طور پر رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو اطلاع دیں۔ اطلاع میں، جہاں ممکن ہو، متعلقہ شخص کی شناخت، درخواست یا مداخلت کی نوعیت، اس کے ممکنہ اثرات اور اختیار کیے گئے طریقہ کار کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جوڈیشل افسر بیرونی اثر و رسوخ یا مداخلت کی کوشش سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر رجسٹرار کے علم میں نہیں لاتا اور معاملہ بعد ازاں کسی دوسرے ذریعے سے چیف جسٹس یا ہائی کورٹ کے کسی جج کے علم میں آتا ہے تو متعلقہ جوڈیشل افسر کی جانب سے رپورٹ نہ کرنا بھی سنگین معاملہ تصور کیا جائے گا اور قابلِ اطلاق قوانین و قواعد کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔مزید برآں تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی عدالتی یا انتظامی پوسٹنگ، تبادلے یا کسی دیگر سرکاری معاملے میں کسی ناجائز فائدے کی طلب، درخواست یا قبولیت سے مکمل طور پر گریز کریں گے اور عدالتی سالمیت، آزادی، غیر جانب داری، دیانت داری اور وقار کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھیں گے۔ہدایت نامے میں 30 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے سابقہ لیٹر نمبر 1138/ایڈمن کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران اپنی پوسٹنگ یا تبادلے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ کسی فرد یا ذریعے سے سفارش یا رجوع نہیں کریں گے۔ اس ہدایت کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ جوڈیشل افسر کے خلاف قواعد کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔بلوچستان ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی عدالتی افسر کو متاثر کرنے، دبا ڈالنے، دھمکانے، ترغیب دینے یا عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف قابلِ اطلاق قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ متعلقہ جوڈیشل افسر ایسی کوشش کی فوری اطلاع رجسٹرار کو دینے کا پابند ہوگا۔ہدایت نامے میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے جوڈیشل افسران کو بدنام، ہراساں، دھمکانے یا غیر ضروری دبا میں لانے کی کوششوں کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسی کسی بھی کوشش کا مقصد اگر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا یا عدالتی آزادی، وقار اور اختیار کو مجروح کرنا ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔بلوچستان ہائی کورٹ نے تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ احکامات پر مکمل اور غیر مشروط عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عدالتی آزادی، غیر جانب داری، سالمیت، دیانت داری اور عدالتی منصب کے وقار کے اعلی ترین تقاضوں کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!