منگل, جون 9, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںسول ہسپتال تیزاب حملہ: جمال رئیسانی کا مجرموں کیلئے سزائے موت کا...

سول ہسپتال تیزاب حملہ: جمال رئیسانی کا مجرموں کیلئے سزائے موت کا مطالبہ، ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع

اسلام آباد/کوئٹہ: سول ہسپتال کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کے بعد نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے ملک میں تیزاب گردی کے جرائم کے خلاف سزائیں مزید سخت کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ 2026 قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔

مجوزہ ترمیم پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-بی سے متعلق ہے، جس کے تحت تیزاب گردی کے مرتکب افراد کے لیے موجودہ سزاؤں کے ساتھ سزائے موت شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں تیزاب گردی کے جرم پر عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی موجودہ سزاؤں کو برقرار رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے سفاک تیزاب حملے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس افسوسناک واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ تیزاب گردی کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

ترمیمی بل میں تیزاب گردی کو ناقابلِ معافی، سفاک اور انسانیت سوز جرم قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ سزائیں ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہیں۔ متن کے مطابق تیزاب گردی کے متاثرین زندگی بھر جسمانی معذوری، شدید ذہنی اذیت، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

بل میں سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں عدالتِ عظمیٰ نے بعض پہلوؤں سے تیزاب گردی کو قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیا تھا، کیونکہ متاثرہ شخص پوری زندگی اس کے اثرات برداشت کرتا ہے۔

نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کا کہنا ہے کہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے جرائم کے مرتکب افراد کے لیے سخت ترین سزاؤں کا خوف پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیزاب گردی جیسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے اور سخت سزائیں ہی ان جرائم کی مؤثر روک تھام کو یقینی

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے