بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، چیف جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین نے کیس کی سماعت کی۔
محمود خان اچکزئی کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ اور ایڈووکیٹ حبیب اللہ ناصر عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے کے خلاف دلائل دیے۔
یاد رہے کہ چمن پولیس تھانے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خلاف اشتعال انگیز اور نفرت آمیز تقاریر کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپنے خلاف درج مقدمے کو چیلنج کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ایف آئی آر معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کے نتیجے میں مقدمے کی کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ سماعت کے دوران کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب محمود خان اچکزئی کے وکیل ایڈووکیٹ حبیب اللہ ناصر نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قانون اور آئین کی بالادستی کی فتح قرار دیا ہے۔

