تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات پر کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی بحری آمدورفت سے متعلق مذاکرات صرف تہران اور مسقط کے درمیان ہو رہے ہیں اور ان کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ صرف جہاز رانی کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق ہو سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ الگ معاملہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران اور عمان کسی نئے بحری راستے یا مشترکہ انتظام پر متفق بھی ہو جائیں، تب بھی آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایران کے بقول امریکا اپنی خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکا کے رویے میں تبدیلی اور اس کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خاتمے پر ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ تہران اور مسقط آبنائے ہرمز میں ایک نئے مشترکہ بحری راہداری کے قیام پر بات چیت کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا ان مذاکرات میں مداخلت سے باز رہے تو عمان کے ساتھ کسی نئی بحری راہداری پر اتفاق ممکن ہو سکتا ہے۔
تاحال عمان کی حکومت نے ان مذاکرات یا ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس رپورٹ پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی توانائی کی منڈیاں اور بحری صنعت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

