بجٹ 2026،27 کے لیے وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف حکام کے مذاکرات جاری ہے۔ آئی ایم ایف کو پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی۔ سرکاری پروکیورمنٹ کیلئے وفاق اور صوبوں میں آن لائن نظام بھی نافذ ہوگا۔
وفد سے مذاکرات کے دوران حکومت نے نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے محدود مالی گنجائش کا اعتراف کرلیا۔ کہا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت وفاقی و صوبائی منصوبوں کی ممکنہ مالی ذمہ داریاں 472 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 10 فیصد سے کم فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، یقین دہانی کروائی کہ پہلے سے جاری منصوبے کو ترجیح دی جائے گی۔
وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ نئے بجٹ میں گذشتہ مالی سال اصل ہدف ایک ہزار ارب سے کم فنڈز کی گنجائش ہے۔ صرف 986 ارب روپے مختص کے جا سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے بجٹ رپورٹس میں کم یا زیادہ خرچ کی وجوہات شامل کرنے پر زور دیا۔ حکومتی اداروں کے بینک اکاؤنٹس اور رقوم کو ایک نظام کے تحت لانے کا کہہ دیا۔
دستاویز کے مطابق 150 ارب روپے سے زائد کا بیلنس مرکزی نظام کا حصہ بنے گا۔ یہ فنڈز مختلف سرکاری محکموں نے اپنے اکاؤنٹس میں جمع کروا رکھے ہیں۔ سرکاری خریداری کا عمل ای پیڈز کے ذریعے شفاف بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
سرکاری ٹھیکوں میں خصوصی رعایت ختم کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی۔ 5 کروڑ روپے سے زائد کے ٹھیکوں کی اصل ملکیت کی تفصیلات جاری کرنا ہوں گی۔ سرکاری پروکیورمنٹ کیلئے وفاق اور صوبوں میں آن لائن نظام نافذ ہوگا۔
دستاویز کے مطابق 2026 کے آخر تک تمام وفاقی اداروں کو ای پیڈز سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کردیا گیا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات کی نگرانی کا نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔

