پیر, مئی 18, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبساک کا بلوچستان میں سماجی بحرانوں پر ڈیبٹ مہم چلانے کا اعلان

بساک کا بلوچستان میں سماجی بحرانوں پر ڈیبٹ مہم چلانے کا اعلان

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی دوسری مرکزی کمیٹی کا تین روزہ اجلاس چیئرمین عزیر بلوچ کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں سابقہ مرکزی رپورٹ، تنقیدی نشست، تنظیمی امور، زونل رپورٹس، علاقائی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس تمام ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث اور مختلف فیصلوں کے بعد تیسرے روز اختتام پذیر ہوگیا۔

اجلاس کے پہلے ایجنڈے میں تنظیم کی سابقہ مرکزی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں مرکزی تنظیمی سرگرمیوں، مختلف کمیٹیوں کی کارکردگی اور جائزاتی رپورٹس پر تفصیلی بحث کی گئی۔ شرکاء نے تنظیمی امور کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں، جس کے بعد یہ ایجنڈا مکمل کیا گیا۔

اجلاس کے دوسرے ایجنڈے کے تحت تنقیدی اور خود تنقیدی نشست منعقد ہوئی، جس میں مرکزی ذمہ داران نے ادارے کی کارکردگی، پیش رفت اور زونل سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے کہا کہ تنقید ایک سائنسی اور فکری عمل ہے، جو اداروں کی کمزوریوں اور خامیوں کو سامنے لا کر بہتر پالیسی سازی، نئے خیالات اور مضبوط فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ تنقیدی عمل اداروں کی اصلاح اور استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ تنقید اور خود تنقیدی کے فقدان سے ادارے جمود، فکری کمزوری اور تخلیقی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن اداروں میں تنقیدی روایت کمزور ہوئی، وہ وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہو گئے۔

اجلاس کے دوران بلوچ سماج کو درپیش مختلف مسائل، جن میں معاشرتی برائیاں، تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، تعلیم یافتہ طبقے کی بے حسی اور سماجی انتشار شامل ہیں، پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ ان مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے علمی، فکری اور اجتماعی سطح پر ان کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیئرمین عزیر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ نوجوانوں نے ہر دور میں اپنے سماج کی اصلاح، شعور کی بیداری اور برائیوں کے خلاف جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوان بھی علمی و فکری شعور کے ساتھ اپنے سماج کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں، تاہم سماج میں موجود سستی، بے حسی اور مختلف برائیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر بلوچ نوجوان کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرے بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی برائیوں سے بچانے اور شعور بیدار کرنے میں کردار ادا کرے۔

چیئرمین نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اگرچہ مشکل ہیں، تاہم تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ہر قوم نے مشکلات، بحرانوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ طلبہ کو اپنی تعلیم، سوچ، فکری صلاحیت اور عملی کردار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ سماج کے علمی، ادبی، ثقافتی، سیاسی اور تعلیمی شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اجلاس کے تیسرے روز علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال کے ایجنڈے پر تفصیلی بحث کی گئی۔ مرکزی ذمہ داران نے مختلف سیاسی موضوعات پر اپنے ڈرافٹس پیش کیے اور خطے سمیت عالمی سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بعد ازاں چیئرمین کی اجازت سے یہ ایجنڈا مکمل کیا گیا۔

تین روزہ اجلاس میں تمام ایجنڈوں پر تفصیلی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت مختلف فیصلے بھی کیے گئے۔ اجلاس میں بلوچ نوجوانوں کو معاشرتی برائیوں سے دور رکھنے کے لیے “انٹیلیکچول ڈیبیٹ آن بلوچ سوسائٹی” کے عنوان سے جامع مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح بلوچ تاریخ اور تہذیب پر علمی مباحث کے فروغ کے لیے “مہر گڑھ کانفرنس” منعقد کرنے، عید کے موقع پر “عید مراگاہ” پروگرام کے انعقاد، گرمیوں کی چھٹیوں میں “گرماگ اوتاک” پروگرام اور سائنس ایگزیبیشن کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں تعلیمی مسائل کے حل، اسکولوں میں گھوسٹ اور متبادل اساتذہ کے معاملے، جامعات میں طلبہ کی کم ہوتی تعداد اور تعلیمی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ بلوچ لٹریسی مہم کے ذریعے تعلیمی شعور اجاگر کرنے اور طلبہ سیاست و سماجی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے