بدھ, اپریل 15, 2026
ہوماہم خبریںامریکی ناکہ بندی دھری کی دھری رہ گئی؛ ایران سے منسلک 4...

امریکی ناکہ بندی دھری کی دھری رہ گئی؛ ایران سے منسلک 4 بحری جہاز رکاوٹیں عبور کرگئے

امریکی ناکہ بندی دھری کی دھری رہ گئی؛ ایران سے منسلک 4 بحری جہاز رکاوٹیں عبور کرگئے

2 گھنٹے قبلایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے، ٹریکنگ ڈیٹا سے تصدیق

امریکی ناکہ بندی کے باوجود 4 جہاز گزرنے میں کامیاب ہوگئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ایران سے آرہے تھے۔

بی بی سی ویریفائی کے مطابق جہازوں کی ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے باوجود ایران سے منسلک 4 جہاز آبنائے ہرمز عبور کرچکے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹریفک ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے دو جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کا دورہ بھی کیا تھا اور اس کے بعد آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔

ان میں سے ایک مال بردار جہاز کریستیانا نے ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز عبور کی۔ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بندر امام خمینی سے آیا تھا۔

ان رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود بعض ایسے تجارتی جہاز بھی گزر رہے ہیں جن کا ایران سے براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے 13 اپریل 2026 کو ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع کی تھی جس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

امریکی حکام نے واضح کیا تھا کہ وہ صرف ان جہازوں کو نشانہ بنائیں گے جو ایرانی بندرگاہوں سے منسلک ہوں جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ادھر نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج جو آئل ٹینکرز اور کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ان میں سے کچھ کا تعلق چین یا دیگر ممالک سے تھا اور وہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف نہیں جا رہے تھے۔

جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً تقریباً 130 سے زائد جہاز اس راستے سے گزرتے تھے مگر اب یہ تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو عالمی تیل سپلائی کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

دی گارجیئن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہازوں کی لوکیشن سے متعلق جعلی سگنلز اور اسپوفنگ کا مسئلہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی ایک بڑی وجہ جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز میں مداخلت ہے۔

ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ بعض جہاز جان بوجھ کر اپنی لوکیشن چھپانے کے لیے جعلی سگنلز (GPS spoofing) استعمال کر رہے ہیں جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں۔

یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ جہاز اپنی اصل منزل یا کارگو کی نوعیت چھپا رہے ہیں جس کے باعث مکمل اور درست تصویر سامنے نہیں آ پا رہی۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے